فیصل آباد۔ 20 اکتوبر (اے پی پی):باغبانوں کو روا ں ماہ اکتوبر کے آخر تک کھجور کے نئے پودے لگانے کا عمل مکمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور کہاگیا ہے کہ چونکہ اکتوبر کا مہینہ کھجور کے نئے پودے لگانے کیلئے موسمی حالات کے مطابق انتہائی موزوں ہے اسلئے باغبان مذکورہ مہینہ کے اختتام تک کھجور کے نئے پودے لگانے کا عمل مکمل کر لیں جبکہ کھجور کی …
باغبانوں کو روا ں ماہ کے آخر تک کھجور کے نئے پودے لگانے کا عمل مکمل کرنے کامشورہ
فیصل آباد۔ 20 اکتوبر (اے پی پی):باغبانوں کو روا ں ماہ اکتوبر کے آخر تک کھجور کے نئے پودے لگانے کا عمل مکمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور کہاگیا ہے کہ چونکہ اکتوبر کا مہینہ کھجور کے نئے پودے لگانے کیلئے موسمی حالات کے مطابق انتہائی موزوں ہے اسلئے باغبان مذکورہ مہینہ کے اختتام تک کھجور کے نئے پودے لگانے کا عمل مکمل کر لیں جبکہ کھجور کی کاشت کیلئے پانی کے اچھے نکاس والی ذرخیز میرا زمین کا انتخاب کیا جانا چاہیے
نیزباغبان کھجور کے ایسے پودوں کا انتخاب کریں جن کا وزن 10سے15 کلو گرام تک اور وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور بیماریوں سے پاک ہو۔ریسرچ انفارمیشن یونٹ آری فیصل آباد کے ماہرین اثمارکے مطابق باغبان پودے نکالنے کیلئے ایک مربع میٹر تک گڑھوں کی لمبائی، چوڑائی، گہرائی تک کھدائی کریں اور گڑھا کھودتے وقت اوپر کی 30سینٹی میٹر مٹی ایک طرف رکھیں اور باقی مٹی الگ رکھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ پودا لگانے سے قبل گڑھے کو 2سے3 ہفتے تک کھلا چھوڑدینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پودے کی منتقلی سے پہلے نئے پودوں کی جڑیں 10سے12گھنٹے تک پانی میں بھگوئی جائیں اور پودے سے پودے کا فاصلہ 20سے25فٹ رکھا جائے۔انہوں نے کلورپائریفاس بحساب ایک لیٹر فی 100لیٹر پانی میں ملا کر پودوں کے گھیرے میں سپرے کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ پودے دیمک اور دیگر کیڑوں و بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں مزید معلومات ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔









