اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے ماضی میں چینی کی برآمدات کی اجازت دینے کے فیصلوں کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے، قیاس آرائی و من مانی کے رجحانات کو روکنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نجی شعبے کی نمائندگی کے بغیر شوگر ایڈوائزری بورڈ کی ازسرنو تشکیل کی …
محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے ماضی میں چینی کی برآمدات کی اجازت دینے کے فیصلوں کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے، قیاس آرائی و من مانی کے رجحانات کو روکنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نجی شعبے کی نمائندگی کے بغیر شوگر ایڈوائزری بورڈ کی ازسرنو تشکیل کی سفارش کی ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں تجارتی پالیسی، برآمدات میں تنوع، ریگولیٹری اصلاحات اور صنعتی مسابقت سے متعلق مختلف ایجنڈاامور پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے وزارت تجارت کی پیش کردہ رپورٹ کی منظوری دیتے ہوئے ماضی میں قومی مفاد کے خلاف چینی کی برآمدات کی اجازت دینے کے فیصلوں کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی پرزوردیا۔ چیئرمین نے کہا کہ احتساب کو یقینی بنانا ضروری ہے اور غلط فیصلوں کی بار بار تکرار کے پیش نظر ان تمام افراد کے خلاف تفصیلی تحقیقات ہونی چاہئیں جنہوں نے اس عمل میں کردار ادا کیا۔
اجلاس میں معاملہ کاتفصیلی جائزہ لینے کیلئے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ،طاہرہ اورنگزیب، فرحان چشتی اور گل اصغر خان پرمشتمل ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ چیئرمین نے مزید ہدایت دی کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کو طلب کیا جائے تاکہ وہ چینی کے شعبے میں کارٹیلائزیشن پر قابو پانے میں اپنی ناکامی کی وضاحت کرے۔ ذیلی کمیٹی نے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے، قیاس آرائی و من مانی کے رجحانات کو روکنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نجی شعبے کی نمائندگی کے بغیر شوگر ایڈوائزری بورڈ کی ازسرنو تشکیل کی سفارش کی۔
اجلاس میں درآمدی پالیسی آرڈر 2022 کے حوالے سے امورکاجائزہ لیا اور آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کو درپیش مسائل پر غور کیا۔ چیئرمین نے وزارت تجارت، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن متعلقہ ایسوسی ایشنز اور غیر جانبدار تکنیکی ماہرین پرمشتمل بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ نباتاتی تحفظ کے حالات کا جائزہ لے کر ایک ہفتے کے اندر پالیسی میں ترامیم کی سفارش کی جا سکے،کمیٹی نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے واجبات کی مصالحت کے سلسلے میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔
چیئرمین نے وزارت خزانہ کو ہدایت دی کہ تمام متعلقہ فریقوں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے تاکہ واجبات کے تصفیے بشمول مارک اپ کو حتمی شکل دی جا سکے اور اس بارے میں تفصیلی رپورٹ کمیٹی میں پیش کی جائے۔ وزارت تجارت نے اپنی زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کا روڈ میپ مختلف شعبہ جاتی کونسلز کے قیام اور دواسازی، چمڑے اور ماربل کی برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
کمیٹی نے ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس میں غیر ٹیرفی رکاوٹوں، خصوصاً امریکہ کی جانب سے عائد کردہ رکاوٹوں سے متعلق اقدامات پر تفصیلی بریفنگ پیش کی جائے۔ کمیٹی نے تانبے، ریئر ارتھ منرلز اور ریکو ڈک منصوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کا بھی جائزہ لیا اوربتایاگیا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی کاوشوں سے سعودی عرب اور چین کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ سے متعلق معاملہ کاجائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تنخواہ میں روبہ ماضی اضافہ کی مکمل وضاحت طلب کی۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ جب تک ایس ای سی پی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ مکمل نہیں ہوتی اور کارکردگی کی بنیاد پر جواز پیش نہیں کیا جاتا، کوئی بھی ماضی سے موثر ادائیگی نہ کی جائے۔ کمیٹی نے ایران کے ساتھ تجارت سے متعلق امورکابھی جائزہ لیا اور اس بات کا نوٹس لیا کہ پابندیوں کے باوجود دو طرفہ تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چیئرمین نے درست اعداد و شمار کی فراہمی، سرحدی سہولتوں میں بہتری اور بارڈر مارکیٹس کو فعال بنانے و بارٹر ٹریڈ فریم ورک کے نفاذ کے لیے باہمی انتظامات کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں اراکینِ قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، طاہرہ اورنگزیب کرن حیدر اور شائستہ پرویز نے بالمشافہ شرکت کی جبکہ فرحان چشتی اور اسد عالم نیازی نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت تجارت، تجارتی تنظیموں، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن اور آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے نمائندگان سمیت سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔








