سیالکوٹ۔ 21 اکتوبر (اے پی پی):ماہرین زراعت کی مسلسل تحقیقی کاوشوں کے باعث ملک میں مکئی کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے آج منگل کو کاشتکاروں کے نام اپنے پیغام میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار زیادہ پیداواری امکانات کی حامل مکئی کی اقسام کاشت کرکے اپنے مالی وسائل میں …
ماہرین زراعت کی مسلسل تحقیقی کاوشوں کے باعث ملک میں مکئی کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے،محکمہ زراعت سمبڑیال
سیالکوٹ۔ 21 اکتوبر (اے پی پی):ماہرین زراعت کی مسلسل تحقیقی کاوشوں کے باعث ملک میں مکئی کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے آج منگل کو کاشتکاروں کے نام اپنے پیغام میں کیا ۔
انہوں نے کہا کہ کاشتکار زیادہ پیداواری امکانات کی حامل مکئی کی اقسام کاشت کرکے اپنے مالی وسائل میں اضافہ کرسکتے ہیں اور مکئی کی مقامی دوغلی اقسام کی تیاری کے حوالے سے مقامی زرعی تحقیقاتی ادارہ اہم کردار ادا کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف ایچ 810، ایف ایچ 421،ایف ایچ 985، ایف ایچ 949،ایف ایچ 793اور ایف ایچ 1046زیادہ درجہ حرارت اور گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ ان اقسام کی چھلیاں 8سے10انچ لمبی ہوتی ہیں اور ان چھلیوں پر دانوں کی16سے18قطاریں موجود ہونے کی وجہ سے پیداواری صلاحیت 100سے110من فی ایکڑ ہے۔
انہوں نے بتایاکہ پنجاب کے چھوٹے کاشتکار ادارہ کی تیار کردہ مقامی دوغلی اقسام کا بیج سستا ہونے کی وجہ سے کاشت کو ترجیح دیتے ہیں ،ہمارے زرعی سائنسدان سنگل کراس کے ساتھ ڈبل کراس ہائی برڈ لائنوں پر بھی کام کررہے ہیں لہٰذا مستقبل میں مکئی کی ایسی نئی اقسام متعارف کرائی جائیں گی جوبدلتے ہوئے موسمی حالات اور پانی کی کمی جیسی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔









