لاہور۔21اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان مطابق کاشتکاردھان کی کٹائی کے بعد باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں۔ اس عمل سے نہ صرف زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ ماحول اور انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فصلوں کی باقیات کو جلانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں سانس کیبیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب …
کاشتکار دھان کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں، ترجمان محکمہ زراعت پنجاب
لاہور۔21اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان مطابق کاشتکاردھان کی کٹائی کے بعد باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں۔ اس عمل سے نہ صرف زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ ماحول اور انسانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فصلوں کی باقیات کو جلانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں سانس کیبیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
وزیر اعلی پنجاب سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت 5 ارب روپے کی لاگت سے کاشتکاروں کو5 ہزار سپر سیڈرز60 فیصد سبسڈی پر فراہم کئے گئے ہیں جس کے استعمال سے دھان کی باقیات کو کار آمد بنایا جا سکتا ہے۔ترجمان محکمہ زراعت نے مزید کہا ہے کہ کاشتکار کھیتوں میں دھان کی باقیات کو جلانے کی بجائے ان کو زمین میں ملا دیں، اس سے زمین کی نامیاتی مادے کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور اگلی فصل کے لئے زمین کی زرخیزی میں بھی بہتری آتی ہے۔
کاشتکار دھان کی دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر اور مشینی کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کے استعمال کریں اس سے باقیات کو زمین میں ملائیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریافی ایکڑ چھٹہ کر کے پانی لگا دیں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کے قوانین کے مطابق دھان کی باقیات کو آگ لگانا قابلِ سزا جرم ہے۔ دھان کی باقیات کو جلانے والے کسانوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے، اس لیے کسانوں سے درخواست ہے کہ وہ اس غیر قانونی عمل سے گریز کریں۔









