مقبوضہ بیت المقدس۔24اکتوبر (اے پی پی):مقبوضہ بیت المقدس کے گورنریٹ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکام مسجد اقصیٰ کے ارد گرد اور مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے شہر میں جو کھدائی کر رہے ہیں اس سے مسجد اقصیٰ کے بعض حصے منہدم ہو سکتے ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس گورنریٹ کے مشیر معروف الرفاعی نے اسرائیل کی طرف سے پرانی اور نئی کھدائیوں کا ذکر کرتے …
مسجد اقصیٰ کے اردگرد اسرائیلی کھدائیوں سے مسجد کے بعض حصے منہدم ہو سکتے ہیں، گورنریٹ مقبوضہ بیت المقدس

مزید خبریں
مقبوضہ بیت المقدس۔24اکتوبر (اے پی پی):مقبوضہ بیت المقدس کے گورنریٹ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکام مسجد اقصیٰ کے ارد گرد اور مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے شہر میں جو کھدائی کر رہے ہیں اس سے مسجد اقصیٰ کے بعض حصے منہدم ہو سکتے ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس گورنریٹ کے مشیر معروف الرفاعی نے اسرائیل کی طرف سے پرانی اور نئی کھدائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کھدائی کا یہ سلسلہ جاری رکھا گیا ہے حتیٰ کہ مسجد اقصیٰ کے نیچے سے ایسی سرنگیں کھودی جارہی ہیں جو یہودی بستیوں کو باہم ملا سکیں۔
یہ سب مسجد اقصیٰ کی عمارت اور اس کے گردوپیش کے لئے خطرناک ہے حتی کہ مسجد اقصیٰ کا انہدام ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح قدیم زمانے کے تعمیر کردہ گھروں اور سکولوں کو بھی خطرہ ہوگا اور مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس کھدائی کے ذریعے نہ صرف مسجد اقصیٰ کے جاری اور طے شدہ ’’سٹیٹس کو ‘‘ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ یہ سب کچھ اسرائیل اپنے سیاسی مقاصد کے لئے کررہا ہے۔
مشیر نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے علاقے میں دھاوا بولا اور شہریوں میں مسماری کے احکامات تقسیم کیے۔ ان نئے مسماری احکامات میں ورکشاپس ، فیکٹریوں اور دھاتی فرنیچر بنانے والے کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ سب اسرائیلی سیاسی مقاصد کے تحت کیا جا رہا ہے جو درحقیقت اسرائیل کے اس پرانے منصوبے کا حصہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کے نزدیک سے ایک نئی سڑک تعمیر کرنا ہے اور ایک پل بناتے ہوئے اناتا جنکشن کو حزمہ چیک پوائنٹ سے جوڑنا ہے۔ اسی غرض سے اسرائیل فلسطینیوں کی املاک اور نشانیوں ہی نہیں مقدس مقامات کے بھی درپے ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کی صبح یہودی آباد کاروں کے ایک جتھے نے بھی مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا ۔ یہودی آباد کاروں کے اس جتھے کو پوری طرح فوجی دستے نے اپنی حفاظت میں لے رکھا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق درجنوں یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہو گئے جو مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی ایک کوشش تھی جبکہ اس کے برعکس اسرائیل نے جگہ جگہ فورسز کی نفری بڑھادی ہے حتیٰ کہ مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر بٹھائے گئے پہروں میں بھی سختی کر دی ہے۔








