غزہ کی صورتحال اب بھی تباہ کن ہے، 15 ہزار مریض انخلا کے منتظر ہیں ،عالمی ادارہ صحت

جنیوا۔24اکتوبر (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں خوراک کی اجازت دینے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی بھوک کو کم کرنے میں کوئی قابل ذکر بہتری آئی ہے۔ غزہ میں صورت حال اب بھی تباہ کن ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریئس نے گزشتہ روز صحافیوں …

جنیوا۔24اکتوبر (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں خوراک کی اجازت دینے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی بھوک کو کم کرنے میں کوئی قابل ذکر بہتری آئی ہے۔ غزہ میں صورت حال اب بھی تباہ کن ہے۔

العربیہ اردو کے مطابق یہ بات ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریئس نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں صورتحال تباہ کن ہے کیونکہ غزہ میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد ناکافی ہے۔ انہوں نے یہ بھی متنبہ کیا کہ اگرچہ 10 اکتوبر کو امریکی ثالثی میں جنگ بندی نافذ ہوئی ہے لیکن خوراک کی کمی کی وجہ سے بھوک کم نہیں ہو رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے میں یومیہ 600 ٹرکوں کے داخلے کی شرط رکھی گئی ہے، تاہم ڈائریکٹر جنرل عالمی ادراہ صحت نے بتایا کہ فی الحال صرف 200 سے 300 ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی ایک بڑی تعداد تجارتی گاڑیوں کے طور پر کام کر رہی ہے۔

بہت سے رہائشیوں کے پاس سامان خریدنے کے لئے وسائل کی کمی ہے۔ انہوں نے خلاف ورزیوں کے باوجود جنگ بندی کی تعریف کی لیکن خبردار کیا کہ بحران ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور ضرورتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امداد کے بڑھتے ہوئے بہاؤ کے باوجود یہ اب بھی ضروریات کے صرف ایک چھوٹے سے حصے کی نمائندگی کر رہا ہے۔ ٹیڈروس گیبریئس نے مزید کہا کہ غزہ میں اب کوئی مکمل طور پر کام کرنے والا ہسپتال موجود نہیں ہے اور 36 میں سے صرف 14 ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔

ضروری ادویات، آلات اور صحت کے کارکنوں کی شدید کمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے جنگ بندی نافذ ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت بڑی مقدار میں طبی سامان ہسپتالوں کو بھیج رہا ہے اور اضافی ہنگامی طبی ٹیمیں تعینات کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ طبی انخلا کے دائرہ کار کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں کہا کہ غزہ میں صحت کے نظام کی تعمیر نو کی کل لاگت 7 بلین ڈالر سے کم نہیں ہوگی۔ دریں اثنا عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر نے ایکس پرکہا کہ ادارے نے انتہائی بیمار 41 مریضوں اور 145کیئر ٹیکرز کو طبی بنیادوں پر غزہ سے باہر منتقل کروایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں تقریباً 15 ہزار مریض انخلا کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم مسلسل ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور طبی انخلا کو تیز کرنے کے لئے تمام راستے کھولیں۔

قبل ازیں عالمی ادارہ صحت نے بتایا تھا کہ غزہ میں تقریباً 15600 مریض انخلا کے منتظر ہیں جن میں 3800 بچے بھی شامل ہیں۔ رفح سرحدی راہداری، جو ماضی میں مریضوں کے مصر کے ذریعے روانگی کےلئے استعمال ہوتا تھی اب بھی عبور کرنے کے لئے بند ہے۔

طبی تنظیموں اور فلسطینی صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ سینکڑوں افراد انخلا کے انتظار میں فوت ہو گئے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران بار بار غزہ کی امداد بند کی اور سنگین انسانی حالات کو مزید خراب کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل کا یہ طرز عمل غزہ کے کچھ حصوں میں قحط کا باعث بنا جبکہ دو سالہ جنگ کے دوران غزہ کے نظام صحت کو شدید دھچکا لگا ہے۔

مزید خبریں