ماسکو۔24اکتوبر (اے پی پی):روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے امریکا کی طرف سے دو بڑی روسی آئل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے اقدام کو غیر دوستانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے روسی معیشت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا ۔ رائٹرز کے مطابق روسی صدر نے خبر دار کیا کہ امریکی پابندیوں کے نتیجہ میں تیل کی سپلائی میں تیزی سے کمی کے باعث …
نئی امریکی پابندیوں کا روسی معیشت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا، ولادی میر پیوٹن

مزید خبریں
ماسکو۔24اکتوبر (اے پی پی):روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے امریکا کی طرف سے دو بڑی روسی آئل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے اقدام کو غیر دوستانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے روسی معیشت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا ۔
رائٹرز کے مطابق روسی صدر نے خبر دار کیا کہ امریکی پابندیوں کے نتیجہ میں تیل کی سپلائی میں تیزی سے کمی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا اور یہ صورتحال خود امریکا کے لئے بھی مشکلات پیدا کرے گی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کے اس ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پابندیوں کا روسی معیشت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا تو یہ اچھی بات ہے لیکن میں آپ کو ان پابندیوں کے اثرات بارے چھ ماہ بعد بتائوں گا۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے مزید کہا کہ روسی آئل کمپنیوں پر امریکی پابندیاں یقیناً روس پر یوکرین جنگ کو بند کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ کوئی عزت دار ملک اور عزت دار قوم دباؤ میں دبائو میں آکر فیصلے نہیں کرتے۔
واضح رہے کہ روسی آئل کمپنیوں روزنیفٹ اور لک آئل پر امریکی پابندیوں کے نتیجہ میں فوری طور پر چین کی سرکاری کمپنیاں مختصر مدت میں روسی تیل کی خریداری کو معطل کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
اس کے علاوہ بھارت میں ریفائنرز، جو سمندری روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اپنی خام درآمدات میں تیزی سے کمی کرنے کے لیے تیار ہے۔ تازہ ترین امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والی دونوں روسی کمپنیوں کا تیل کی مجموعی عالمی پیداوار میں حصہ 5 فیصد سے زیادہ ہے








