اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مذہب کو ہتھیار بنانے اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کی مذمت

اقوام متحدہ۔24اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے، پوری برادریوں کی توہین اور بعض علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ منظم امتیازی سلوک جیسے خطرناک رجحانات کے خلاف اقدامات کرے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان مشن میں قونصلر صائمہ سلیم نےسماجی، ثقافتی اور انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی کو بتایا کہ …

اقوام متحدہ۔24اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے، پوری برادریوں کی توہین اور بعض علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ منظم امتیازی سلوک جیسے خطرناک رجحانات کے خلاف اقدامات کرے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان مشن میں قونصلر صائمہ سلیم نےسماجی، ثقافتی اور انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پڑوس میں ہم نے انتہا پسندانہ نظریات کے المناک نتائج دیکھے ہیں جو ثقافتی اور مذہبی تنوع کو مٹانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خصوصی نمائندہ نیکولس لیورت کے ساتھ مکالمے میں بات کر تے ہوئے کہا کہ بھارت میں امتیازی شہریت قوانین، عبادت گاہوں پر حملے، جھوٹی معلومات پر مبنی مہمات، نسل کشی کے مطالبات اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز سیاسی بیانیہ اب سرکاری پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا، عدم برداشت اور دائیں بازو کی انتہاپسندی جو اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے رجحانات نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ شمولیتی ترقی اور عالمی امن کے لئے بھی خطرہ ہیں۔ پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔

پاکستانی ڈیلیگیٹ نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے پاکستان کا عزم ملک کے آئین اور قائداعظم محمد علی جناح کے وژن میں شامل ہے، جنہوں نے تمام شہریوں کے لئے مساوات اور مذہبی آزادی کو برقرار رکھا۔انہوں نے کہا کہ تمام چیلنجز کے باوجود پاکستان نے قومی کمیشن برائے اقلیتیں اور انسانی حقوق جیسے اداروں کے ذریعے شمولیت اور احترام کو فروغ دیا ہے۔

اقلیتوں کو پارلیمان میں مخصوص نشستوں اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے نمائندگی حاصل ہے جبکہ ویلفیئر فنڈز، وظائف اور عبادت گاہوں کی بحالی اقلیتوں کو بااختیار بنانے میں معاون ہےجبکہ عدالتی اور انتظامی میکانزمزکے ذریعے امتیازی سلوک کے خلاف فوری اور مؤثر انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اصلاحات کے ذریعے معاشرے میں رواداری، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد اور یکجہتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

مزید خبریں