اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اسلام آباد میں منعقدہ ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس کے دوسرے روز ایرانی وزیر برائے روڈز اینڈ اربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ ریلوے تعاون، فریٹ آپریشنز اور تجارتی روابط پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایرانی وفد کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلامی …
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ایرانی وزیر برائے روڈز اینڈ اربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق سے ملاقات، ریلوے کے شعبے میں مشترکہ ایکشن پلان اور اسلام آباد-تہران-استنبول فریٹ ٹرین کی بحالی پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اسلام آباد میں منعقدہ ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس کے دوسرے روز ایرانی وزیر برائے روڈز اینڈ اربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ ریلوے تعاون، فریٹ آپریشنز اور تجارتی روابط پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایرانی وفد کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ریلوے کے شعبے میں تعاون کے نئے در وا ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک نے ریلوے کے شعبے میں مشترکہ ایکشن پلان پر اتفاق کیا اور انفراسٹرکچر و آپریشنز میں اشتراک بڑھانے پر غور کیا۔ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد-تہران-استنبول (آئی ٹی آئی) فریٹ ٹرین دسمبر 2025ء میں دوبارہ چلائی جائے گی تاکہ خطے کے ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو تقویت مل سکے۔
ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک ایران کے ذریعے عالمی منڈیوں سے جڑ رہے ہیں اور پاکستان و ایران مل کر چین کو یورپ سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے ریلوے رابطوں میں اضافے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔محمد حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے ریلوے نظام 1917ء سے منسلک ہیں جبکہ پاکستان کا ریلوے نظام 1861ء میں قائم ہوا اور اس کی اپ گریڈیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ریلوے اصلاحات کا نیا باب شروع ہو چکا ہے جس کے تحت کراچی پورٹ سے فریٹ ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ روہڑی تا نوکنڈی 884 کلومیٹر سیکشن پر جلد کام شروع کیا جائے گا جبکہ کوئٹہ تا تافتان سیکشن کی اپ گریڈیشن آئندہ سال شروع کی جائے گی۔دونوں ممالک نے فریم ورک آف کوآپریشن کے تحت ریلوے تعاون کو وسعت دینے اور کمرشل سرگرمیوں میں اشتراک کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
مزید برآں چابہار اور گوادر بندرگاہوں کو ریل یا سڑک کے ذریعے جوڑنے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں ممالک نے ریلوے رابطوں کے فروغ کے لیے کوآرڈینیشن میکنزم پر بھی اتفاق کیا۔وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ منصوبے خطے میں معاشی ترقی کی نئی راہیں ہموار کریں گے اور باہمی تعلقات کو ایک نئے دور میں داخل کریں گے۔








