شعبہ کماد کے زرعی سائنسدانوں کا کارنامہ،2 ہزار من فی ایکڑ سے زائد پیداوار دینے کی صلاحیت رکھنے والی کماد کی نئی لائن ایس ایل 284 تیار

فیصل آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی):ڈاکٹر محمد کاشف منیر نے کہا ہے کہ کماد کے زیر کاشت رقبہ اور فی ایکڑ پیداوار کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ شعبہ کماد کے زرعی سائنسدانوں نے کماد کی نئی لائن ایس ایل 284 تیار کی ہے جو 2ہزار من فی ایکڑ سے زائد پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ کماد …

فیصل آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی):ڈاکٹر محمد کاشف منیر نے کہا ہے کہ کماد کے زیر کاشت رقبہ اور فی ایکڑ پیداوار کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ شعبہ کماد کے زرعی سائنسدانوں نے کماد کی نئی لائن ایس ایل 284 تیار کی ہے جو 2ہزار من فی ایکڑ سے زائد پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ کماد کے زیر اہتمام سٹیک ہولڈرز کے مشاورتی اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر محمد کاشف نے کہا کہ بدلتے موسمی حالات میں کماد کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لئے کماد کی منظور شدہ نئی اقسام کی کاشت کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز مشترکہ کاوشیں بروئے کار لائیں۔ ان اقسام کی کاشت کے فروغ سے شوگر انڈسٹری میں انقلاب برپا ہوگا۔

شعبہ کماد کی متعارف کردہ تمام اقسام کی شوگر ریکوری 12.5 سے 12.77 فیصد تک ہے۔ پاکستان میں کماد کے کل کاشتہ رقبہ کے 90 فیصد پر زرعی تحقیقاتی ادارہ کماد، فیصل آباد کی متعارف کردہ اقسام کاشت ہورہی ہیں جو اس ادارہ کے زرعی سائنسدانوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ گنے کی فصل ملکی معیشت میں اہم مقام رکھتی ہے کیونکہ اس کا قومی جی ڈی پی میں 0.8 فیصد حصہ ہے۔ شعبہ کماد کے زرعی سائنسدانوں ڈاکٹر اخلاق مدثر، ڈاکٹر بابر حسین بابر اور ڈاکٹر نعیم فیاض نے شرکاء کوکماد کی زرعی تحقیق کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں گنے کی اوسط پیداوار 800 من فی ایکڑ ہے جوکہ عالمی اوسط پیداوار 710 من فی ایکڑ سے بھی زیادہ ہے۔

کاشتکاروں کی خوشحالی اور شوگر ملوں کی کامیابی کا انحصار کماد کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کیساتھ بہتر شوگر ریکوری کے حصول پر ہے۔ ڈاکٹر عبدالمجید نے سٹیک ہولڈرز کو شعبہ کماد میں کھادوں کے متوازن استعمال کے متعلق جاری تجربات اور شوگر کین ٹیسٹنگ لیبارٹری میں مختلف اقسام کی شوگر ریکوری کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ کے زرعی سائنسدانوں کی شبانہ روز کاوشوں کے نتیجہ میں فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیساتھ 12.77 فیصد شوگر ریکوری کی صلاحیت کی حامل کماد کی 29 اقسام متعارف کروائی گئی ہیں۔ڈاکٹر محمد کامران اور ڈاکٹر عبدالمجید نے بتایا کہ امسال پنجاب میں تقریباً 20 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کماد کاشت کیا گیا ہے۔

انہوں نے کماد کی کاشت میں جدید زرعی مشینری کے استعمال اور کماد کی ستمبر و بہاریہ کاشت میں دالوں، تیلدار اجناس، سبزیوں اور دیگر فصلوں کی کامیاب مخلوط کاشت کے تجربات سے آگاہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کماد کی نئی منظور شدہ اقسام کی 4 فٹ کے فاصلے پر کھلے سیاڑوں میں کاشت کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں کی دہلیزِ تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کماد میں کم دورانیہ کی دیگر فصلوں کی کاشت سے کاشتکاروں کی زرعی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔ چنا اور مسور کی کماد میں مخلوط کاشت سے کماد کی فی ایکڑ پیداوار،زمینوں کی زرخیزی میں اضافہ کیساتھ شوگر ریکوری کا بھی بہتر حصول نوٹ کیا گیا ہے۔ڈاکٹر ثقلین شاہ، ڈاکٹر محمد محمود اور شہزاد افضل نے شرکاء کے فیلڈ وزٹ کے موقع پر شرکاء کو بتایا کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں سجاول، ٹھٹھہ اور بدین کے اضلاع سے کماد کے بیج کے حصول کے بعد ٹنل میں تقریباً 30 ہزار پودے لگائے ہیں۔

ان پودوں کو نرسری میں منتقل کیا جائے گا جن میں سے بیماریوں سے پاک پودوں پر مزید تحقیق کی جائے گی۔ جس سے مستقبل میں نئی اقسام متعارف کروائی جائیں گی جو موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت کی حامل ہوں گی۔ کماد کی 4 فٹ کے فاصلے پر کھلے سیاڑوں میں کاشت سے برداشت تک جدید مشینری کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کماد کی مشینی کاشت کے متعلق محکمانہ سفارشات کاشتکاروں کی دہلیزِ تک منتقلی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

کاشتکاروں کو ان سفارشات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں انچارج شعبہ کماد فیصل آباد ڈاکٹر محمد کاشف منیر، نمائندہ شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ بورڈ ڈاکٹر آصف تنویر، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد حافظ محمد عدیل، جنرل منیجر کین، رمضان شوگر مل رانا مقصود احمد، جنرل منیجر کین شوگر مل رحیم یار خان، ندیم حیدر، جنرل منیجر کین سفینہ شوگر مل لالیاں، خلیل احمد، جنرل منیجر کین شیخو شوگر مل عامر شہزاد، جنرل منیجر کین نون شوگر مل بھلوال، سردار لیاقت، ترقی پسند کاشتکار، بلال اسرائیل خان، حاجی ممتاز خان، حافظ محمد طارق، محمد زعیم، پرنسپل سائنٹسٹ شعبہ کماد ڈاکٹر محمد کامران، ڈاکٹر بابر حسین بابر، سینئر سائنٹسٹ شعبہ کماد، ڈاکٹر اخلاق مدثر، ڈاکٹر عبد المجید، ڈاکٹر محمد محمود، ڈاکٹر نعیم فیاض، ڈاکٹر محمد ثقلین شاہ، ڈاکٹر عبدالشکور، محمد شہزاد افضل،

ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچرل انفارمیشن فیصل آباد محمد اسحاق لاشاری نے شرکت کی۔شوگر ملز کے نمائندگان نے ادارہ کماد کی نئی لائن ایس ایل۔284سمیت نئی لائنوں سی پی۔1101اور ایس ایل 2016میں خصوصی دلچسپی لی۔انہوں نے ان نئی لائنوں کی بریکس ویلیو اور دیگر خصوصیات کااپنی موجودگی میں لیبارٹری میں تجزیہ کرایا۔یہ نئی لائنیں کماد کی منظور شدہ قسم سی پی ایف۔253 کے مقابل پائی گئیں جس پر انہوں نے زرعی سائنسدانوں کو خصوصی مبارکباد دی۔