انقرہ۔25اکتوبر (اے پی پی):ترکیہ نے تصدیق کی ہے کہ سیاحتی مقام بودروم کے قریب بحیرہ ایجیئن میں ایک ربڑ کی کشتی الٹنے سے 17 تارکینِ وطن ہلاک ہو گئے ہیں۔اردو نیوز نے ترکیہ کے صوبے موغلا کے گورنر آفس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے حوالے سے بتایا کہ17 میں سے 14 غیرقانونی تارکینِ وطن کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں جبکہ باقی کی تلاش …
ترکیہ، بحیرہ ایجیئن میں کشتی الٹنے سے 17 تارکینِ وطن ہلاک

مزید خبریں
انقرہ۔25اکتوبر (اے پی پی):ترکیہ نے تصدیق کی ہے کہ سیاحتی مقام بودروم کے قریب بحیرہ ایجیئن میں ایک ربڑ کی کشتی الٹنے سے 17 تارکینِ وطن ہلاک ہو گئے ہیں۔اردو نیوز نے ترکیہ کے صوبے موغلا کے گورنر آفس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے حوالے سے بتایا کہ17 میں سے 14 غیرقانونی تارکینِ وطن کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں جبکہ باقی کی تلاش جاری ہے ۔حکام نے بتایا کہ دو افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جن میں سے ایک نے بتایا کہ کشتی میں پانی بھرنا شروع ہوا اور صرف 10 منٹ بعد وہ ڈوب گئی۔
ایک بچ جانے والا شخص تیر کر چیلبی جزیرے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔گورنر آفس نے بتایا کہ زندہ بچنے والوں میں ایک افغان شہری بھی شامل ہے ۔واقعے کے بعد چار کوسٹ گارڈ کشتیاں، ایک ہیلی کاپٹر اور ماہر غوطہ خوروں کی ٹیم لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ترکیہ کے ساحل اور یونان کے قریبی جزائر خصوصاً ساموس، روڈس اور لیسبوس کے درمیان مختصر لیکن خطرناک سمندری راستہ اکثر تارکینِ وطن کے لیے مہلک ثابت ہوتا ہے۔بودروم یونانی جزیرے کوس کے قریب واقع ہے۔بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم) کے مسنگ مائیگرنٹس پراجیکٹ کے مطابق رواں سال اب تک تقریباً 1400 تارکینِ وطن بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔








