پاکستان کرکٹ ٹیم چھاتی کے سرطان سے آگاہی مہم کے تحت جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹی 20 میں گلابی کٹ پہنے گی

راولپنڈی۔27اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کرکٹ ٹیم چھاتی کے سرطان سے آگاہی مہم کے تحت جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹی 20 میں گلابی کٹ پہنے گی۔ پی سی بی کے مطابق راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کل (منگل) کو گلابی رنگ میں رنگ جائے گا جب پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں تین ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں مدمقابل ہوں گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) …

پاکستان کرکٹ ٹیم چھاتی کے سرطان سے آگاہی مہم کے تحت جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹی 20 میں گلابی کٹ پہنے گی

مزید خبریں

قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ پر بحث جاری اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ پر بحث بدھ کو بھی جاری رہی۔ایوان میں عام بحث کیلئے 40 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم بحث کا دورانیہ اس سے تجاوز کر گیا۔ اس دوران حکومتی اراکین نے بجٹ کو متوازن اور عوامی امنگوں کے عین مطابق قرار دیا جبکہ اپوزیشن نے زراعت سمیت مختلف شعبوں کو نظر انداز کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن رکن شفقت عباس نے کہا کہ عام آدمی اور مزدور کے لئے بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں ہے، کروڑوں عوام کی نظریں اس ایوان پر ہیں، ان کو ریلیف دینا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کی رکن مہرین رزاق بھٹو نے خطے میں امن کے لئے کردار پر پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہا جس سے دنیا بڑے نقصان سے بچی، بجٹ کا 42 فیصد قرض پر سود کی ادائیگی پر لگے گا، غیر ترقیاتی بجٹ نہ روکنے کی وجہ سے خسارے کا بجٹ پیش کیا جارہا ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں اضافہ نہیں کیاگیا،اٹھارویں ترمیم کے تحت طے شدہ کئی وزارتیں صوبوں کو نہیں ملیں۔ عظیم الدین زاہد نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہوئی ہے، گزشتہ سال سیلاب سے فصلوں کو نقصان پہنچا تھا، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں مگر بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ کے دعوے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح کم ہے، ملک سے سرمایہ باہر جا رہا ہے۔ پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی ازبل زہری نے کہاکہ خواتین کیلئے بجٹ میں فنڈز کی فراہمی میں اضافہ ضروری ہے، خواتین مختلف رکاوٹوں کے باوجود مختلف شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے مختلف منصوبے شروع کئے جائے اور ان پر موثر انداز میں عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب سے حملہ مجموعی طور پر خواتین کے بطور شہری ان کے حقوق پر حملہ تھا، تیزاب اورخطرناک کیمیکلز کی سرعام فروخت کس طرح ہو رہی ہے، حکومت کو اس حوالہ سے ضابطہ جاتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ازبل زہری نے کہاکہ خواتین کے خلاف استحصال کے خاتمہ اوران کوبااختیاربنانے کواولین ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے، خواتین پر سرمایہ کاری ملک کی ترقی وخوشحالی پرسرمایہ کاری کے برابرہے۔ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ 25 بار پاکستان آئی ایم ایف کے پاس گیا ہے مگر ہماری مشکلات کم نہ ہو سکیں، عام لوگ بجٹ سے لاتعلق ہیں، بجٹ میں آئی ایم ایف کی تمام ترسفارشات کوشامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گیس کی رائلٹی سے صوبوں کو ان کاحصہ مل رہاہے، صوبوں سے بجٹ نچلی سطح پر منتقل نہیں ہو رہا، 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات بڑھ گئے ہیں مگر پھر بھی رونا دھونا جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی وجہ سے ریکارڈ ترسیلات زر آ رہی ہیں، وفاقی حکومت ان کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں، ہمیں خلیجی ممالک میں اپنے شہریوں اور کارکنوں کے مفادات کاتحفظ کرنا چاہئے، پاکستانی افرادی قوت کویورپی مارکیٹس تک رسائی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کوملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قراردیا جا رہا ہے مگر کسانوں اور ہاریوں کی حالت زار میں بہتری نہیں آ رہی۔ انہوں نے بی آئی ایس پی کیلئے زیادہ فنڈز کی فراہمی پرتنقید کی اورکہاکہ اس کی بجائے زیادہ بجٹ تعلیم اورتربیت کیلئے مختص کیا جائے، گردشی قرضہ میں کمی کیلئے اقدامات کئے جائے۔ مسلم لیگ (ن )کے رکن اظہر قیوم ناہرا نے کہا کہ پاکستان دنیا کے نقشے پر امن کا سفیر بن کر ابھرا ہے،اللہ پاکستان کو ہمیشہ عزتوں سے نوازے، اپنے قائدین، عوام، عسکری و سیاسی قیادت کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں،مشکل حالات میں متوازن بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں،بجٹ میں قوم پر زیادہ بوجھ نہ ڈالنے اور ہرممکنہ ریلیف دی گئی،ٹیکسوں میں مختلف شعبوں کو ریلیف دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کے لئے اقدامات ناکافی ہیں،اس پر مزید توجہ کی ضرورت ہے،کسان کو صنعتکار سے زیادہ ریلیف ملنا چاہئے، کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہو گا، سولر پر کسانوں کو سبسڈی دی جائے،تیل کی قیمتیں کم کی جائیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن عامر حسین مگسی نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عسکری قیادت نے امریکہ-ایران معاہدے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے، اس سے دنیا میں ملک کا وقار بلند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مشینری، کھادوں، ٹریکٹرز، کرم کش ادویات، بجلی پر کوئی سبسڈی نہیں اسی وجہ سے پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے، واٹر مینجمنٹ کے مسائل بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلڈ سے اربوں روپوں کے نقصان کا سامنا ہوا تھا اس پر وفاق بھی اپنا حصہ ڈالے۔عامر مگسی نے کہا کہ زرعی تحقیق کے لئے جامعات کو مزید بہتر بنانا ہے،پانی کے ضیاع کو روکنا ہے، زراعت پر لگائے گئے ٹیکس پر نظرثانی کی جائے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بغیر کسی سیاسی وابستگی سے مستحقین مستفید ہوتے ہیں،اس کو سیاسی رشوت قرار دینا افسوسناک ہے۔ ایم کیو ایم کی رکن نکہت شکیل نے کہا کہ بجٹ عوام دوست نہیں ہے،اس میں عوام کی ضرورتوں کا خیال نہیں رکھا گیا، مہنگائی کی شرح سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہونا چاہئے، صحت اور تعلیم کا بجٹ ملا کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے برابر نہیں،یہ ایک اچھا پروگرام ہے تاہم اس میں شفافیت کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن بلال فاروق تارڑ نے کہاکہ سب سے پہلے میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو خطے میں امن کے لئے ان کی سفارتی کوششوں پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں،بجٹ 2026-27 میں عوام کو ریلیف دیا گیا ہے، کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں رعایت دی گئی، سپر ٹیکس اور اضافی سرچارج میں کمی کی گئی، رئیل اسٹیٹ اور برآمدی شعبے کے لئے ٹیکس کم کئے گئے، آئی ٹی برآمدات کی حوصلہ افزائی کی گئی اور کینسر کی ادویات کے خام مال پر ٹیکس ختم کیا گیا۔انہوں نے ک ہاکہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کی کوشش انتہائی تشویشناک ہے۔ اس کا موثر جواب یہ ہے کہ پاکستان نئے ڈیم، آبی ذخائر اور ہائیڈرو پاور منصوبوں پر تیزی سے کام کرے تاکہ زراعت، معیشت اور قومی سلامتی کو محفوظ بنایا جا سکے۔یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں اور صوبوں کو متحد ہو کر پاکستان کے آبی وسائل کے تحفظ اور نئے ڈیموں کی تعمیر پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔

National Assembly session

راولپنڈی۔27اکتوبر (اے پی پی):پاکستان کرکٹ ٹیم چھاتی کے سرطان سے آگاہی مہم کے تحت جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹی 20 میں گلابی کٹ پہنے گی۔ پی سی بی کے مطابق راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کل (منگل) کو گلابی رنگ میں رنگ جائے گا جب پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں تین ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں مدمقابل ہوں گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنی کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر ) کے تحت "پنک ربن پاکستان” کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ چھاتی کے سرطان سے متعلق عوامی آگاہی پیدا کی جا سکے۔ یہ مہم عالمی سطح پر منائے جانے والے #PINKtober کا حصہ ہے۔

میچ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم خصوصی گلابی تھیم والی کٹ پہن کر میدان میں اترے گی جبکہ جنوبی افریقہ کے کھلاڑی، میچ آفیشلز، کوچنگ اسٹاف اور کمنٹیٹرز بھی اس مہم کی حمایت میں گلابی ربن لگائیں گے۔ میچ میں استعمال ہونے والی سٹمپس بھی گلابی رنگ کی ہوں گی۔ نشریات کے دوران کمنٹیٹرز ناظرین کو آگاہی پیغامات بھی دیں گے تاکہ بیماری سے متعلق شعور مزید اجاگر کیا جا سکے۔ مزید برآں، لاہور کے کلمہ چوک پر واقع پنک ربن بریسٹ کینسر ٹرسٹ اسپتال نے اعلان کیا ہے کہ وہ 28 اکتوبر کو خواتین کے لیے مفت کلینیکل معائنہ اور سکریننگ کی سہولت فراہم کرے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اپنی صحت کے بارے میں باخبر رہیں اور بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔

پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد سید نے کہا کہ یہ اقدام بورڈ کے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی کے تحت جاری مستقل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا ہم دونوں ٹیموں، میچ آفیشلز، نشریاتی اداروں اور شائقین کے مشکور ہیں جنہوں نے اس اہم مقصد کے لیے یکجا ہو کر تعاون کیا۔ ہماری امید ہے کہ مشترکہ کوششوں سے ہم معاشرے میں آگاہی پھیلانے اور لوگوں کو مثبت عمل کی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

پنک ربن پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عمر آفتاب نے پی سی بی کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے ذریعے اس اہم سماجی پیغام کو پورے ملک تک پہنچانا ایک مثبت اور قابل تحسین اقدام ہے۔ اس اشتراک کا مقصد قومی سطح پر چھاتی کے سرطان کے بارے میں آگاہی پھیلانا اور بروقت تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ عمر آفتاب نے مزید کہا کہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو پوری قوم کو متحد کرتا ہے اور آج یہ ہمیں ایک زندگی بچانے والے مقصد کے لیے اکٹھا کر رہا ہے۔

مزید خبریں
National Assembly session
قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ پر بحث جاری اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ پر بحث بدھ کو بھی جاری رہی۔ایوان میں عام بحث کیلئے 40 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم بحث کا دورانیہ اس سے تجاوز کر گیا۔ اس دوران حکومتی اراکین نے بجٹ کو متوازن اور عوامی امنگوں کے عین مطابق قرار دیا جبکہ اپوزیشن نے زراعت سمیت مختلف شعبوں کو نظر انداز کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن رکن شفقت عباس نے کہا کہ عام آدمی اور مزدور کے لئے بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں ہے، کروڑوں عوام کی نظریں اس ایوان پر ہیں، ان کو ریلیف دینا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کی رکن مہرین رزاق بھٹو نے خطے میں امن کے لئے کردار پر پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہا جس سے دنیا بڑے نقصان سے بچی، بجٹ کا 42 فیصد قرض پر سود کی ادائیگی پر لگے گا، غیر ترقیاتی بجٹ نہ روکنے کی وجہ سے خسارے کا بجٹ پیش کیا جارہا ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں اضافہ نہیں کیاگیا،اٹھارویں ترمیم کے تحت طے شدہ کئی وزارتیں صوبوں کو نہیں ملیں۔ عظیم الدین زاہد نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہوئی ہے، گزشتہ سال سیلاب سے فصلوں کو نقصان پہنچا تھا، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں مگر بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ کے دعوے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح کم ہے، ملک سے سرمایہ باہر جا رہا ہے۔ پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی ازبل زہری نے کہاکہ خواتین کیلئے بجٹ میں فنڈز کی فراہمی میں اضافہ ضروری ہے، خواتین مختلف رکاوٹوں کے باوجود مختلف شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے مختلف منصوبے شروع کئے جائے اور ان پر موثر انداز میں عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب سے حملہ مجموعی طور پر خواتین کے بطور شہری ان کے حقوق پر حملہ تھا، تیزاب اورخطرناک کیمیکلز کی سرعام فروخت کس طرح ہو رہی ہے، حکومت کو اس حوالہ سے ضابطہ جاتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ازبل زہری نے کہاکہ خواتین کے خلاف استحصال کے خاتمہ اوران کوبااختیاربنانے کواولین ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے، خواتین پر سرمایہ کاری ملک کی ترقی وخوشحالی پرسرمایہ کاری کے برابرہے۔ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ 25 بار پاکستان آئی ایم ایف کے پاس گیا ہے مگر ہماری مشکلات کم نہ ہو سکیں، عام لوگ بجٹ سے لاتعلق ہیں، بجٹ میں آئی ایم ایف کی تمام ترسفارشات کوشامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گیس کی رائلٹی سے صوبوں کو ان کاحصہ مل رہاہے، صوبوں سے بجٹ نچلی سطح پر منتقل نہیں ہو رہا، 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات بڑھ گئے ہیں مگر پھر بھی رونا دھونا جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی وجہ سے ریکارڈ ترسیلات زر آ رہی ہیں، وفاقی حکومت ان کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں، ہمیں خلیجی ممالک میں اپنے شہریوں اور کارکنوں کے مفادات کاتحفظ کرنا چاہئے، پاکستانی افرادی قوت کویورپی مارکیٹس تک رسائی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کوملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قراردیا جا رہا ہے مگر کسانوں اور ہاریوں کی حالت زار میں بہتری نہیں آ رہی۔ انہوں نے بی آئی ایس پی کیلئے زیادہ فنڈز کی فراہمی پرتنقید کی اورکہاکہ اس کی بجائے زیادہ بجٹ تعلیم اورتربیت کیلئے مختص کیا جائے، گردشی قرضہ میں کمی کیلئے اقدامات کئے جائے۔ مسلم لیگ (ن )کے رکن اظہر قیوم ناہرا نے کہا کہ پاکستان دنیا کے نقشے پر امن کا سفیر بن کر ابھرا ہے،اللہ پاکستان کو ہمیشہ عزتوں سے نوازے، اپنے قائدین، عوام، عسکری و سیاسی قیادت کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں،مشکل حالات میں متوازن بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں،بجٹ میں قوم پر زیادہ بوجھ نہ ڈالنے اور ہرممکنہ ریلیف دی گئی،ٹیکسوں میں مختلف شعبوں کو ریلیف دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کے لئے اقدامات ناکافی ہیں،اس پر مزید توجہ کی ضرورت ہے،کسان کو صنعتکار سے زیادہ ریلیف ملنا چاہئے، کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہو گا، سولر پر کسانوں کو سبسڈی دی جائے،تیل کی قیمتیں کم کی جائیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن عامر حسین مگسی نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عسکری قیادت نے امریکہ-ایران معاہدے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے، اس سے دنیا میں ملک کا وقار بلند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مشینری، کھادوں، ٹریکٹرز، کرم کش ادویات، بجلی پر کوئی سبسڈی نہیں اسی وجہ سے پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے، واٹر مینجمنٹ کے مسائل بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلڈ سے اربوں روپوں کے نقصان کا سامنا ہوا تھا اس پر وفاق بھی اپنا حصہ ڈالے۔عامر مگسی نے کہا کہ زرعی تحقیق کے لئے جامعات کو مزید بہتر بنانا ہے،پانی کے ضیاع کو روکنا ہے، زراعت پر لگائے گئے ٹیکس پر نظرثانی کی جائے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بغیر کسی سیاسی وابستگی سے مستحقین مستفید ہوتے ہیں،اس کو سیاسی رشوت قرار دینا افسوسناک ہے۔ ایم کیو ایم کی رکن نکہت شکیل نے کہا کہ بجٹ عوام دوست نہیں ہے،اس میں عوام کی ضرورتوں کا خیال نہیں رکھا گیا، مہنگائی کی شرح سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہونا چاہئے، صحت اور تعلیم کا بجٹ ملا کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے برابر نہیں،یہ ایک اچھا پروگرام ہے تاہم اس میں شفافیت کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن بلال فاروق تارڑ نے کہاکہ سب سے پہلے میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو خطے میں امن کے لئے ان کی سفارتی کوششوں پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں،بجٹ 2026-27 میں عوام کو ریلیف دیا گیا ہے، کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں رعایت دی گئی، سپر ٹیکس اور اضافی سرچارج میں کمی کی گئی، رئیل اسٹیٹ اور برآمدی شعبے کے لئے ٹیکس کم کئے گئے، آئی ٹی برآمدات کی حوصلہ افزائی کی گئی اور کینسر کی ادویات کے خام مال پر ٹیکس ختم کیا گیا۔انہوں نے ک ہاکہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کی کوشش انتہائی تشویشناک ہے۔ اس کا موثر جواب یہ ہے کہ پاکستان نئے ڈیم، آبی ذخائر اور ہائیڈرو پاور منصوبوں پر تیزی سے کام کرے تاکہ زراعت، معیشت اور قومی سلامتی کو محفوظ بنایا جا سکے۔یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں اور صوبوں کو متحد ہو کر پاکستان کے آبی وسائل کے تحفظ اور نئے ڈیموں کی تعمیر پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔