چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان سے یورپی یونین کے پارلیمانی وفد کی ملاقات

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان سے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں یورپی یونین کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی۔ یہ وفد یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے ترقی کا نمائندہ تھا جس کی قیادت ایم ای پی لوکاس مینڈل (آسٹریا) کر رہے تھے جبکہ نائب چیئرمین یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے ترقی رابرٹ بیڈرون اور یورپی پارلیمنٹ کے دیگر سینئر اراکین بھی …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان سے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں یورپی یونین کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی۔ یہ وفد یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے ترقی کا نمائندہ تھا جس کی قیادت ایم ای پی لوکاس مینڈل (آسٹریا) کر رہے تھے جبکہ نائب چیئرمین یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے ترقی رابرٹ بیڈرون اور یورپی پارلیمنٹ کے دیگر سینئر اراکین بھی ملاقات میں موجود تھے۔

شیری رحمان نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان سے پارلیمان کے درمیان براہ راست سفارتی روابط خصوصاً ترقیاتی تعاون، ماحولیاتی لچک، تجارت، صحت عامہ، بے دخلی اور انسانی بحرانوں کے حوالے سے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ناگزیر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی مکالمہ مشترکہ ایجنڈے تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ہم نے یورپی پارلیمان کے ساتھ عالمی ماحولیاتی فورمز اور کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر قریبی تعاون کیا ہے اور ہم یورپی یونین کے مسلسل شمولیتی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

شیری رحمان نے اقتصادی تعاون پر بات کرتے ہوئے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت کی توسیع اور تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 9 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ دونوں جانب کا تجارتی حجم 12 ارب ڈالر ہے۔انہوں نے کہا کہ تجارت معیشت کو مضبوط کرتی ہے اور روزگار پیدا کرتی ہے، ہم یورپی یونین کے گلوبل گیٹ وے انیشیٹیو اور آنے والے یورپین۔پاکستان بزنس فورم کے ذریعے تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

ایم ای پی لوکاس مینڈل نے پاکستان کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کے درمیان براہ راست بات چیت دونوں خطوں کے تعلقات میں اہم پیشرفت ہے، یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔رابرٹ بیڈرون نے پاکستان کے ماحولیاتی مذاکرات اور موافقتی منصوبہ بندی کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے، پانی کے انتظام، ہائیڈرو پاور کے فروغ اور جنگلات کے تحفظ جیسے مسائل نہایت اہم ہیں۔

شیری رحمان نے وفد کے سوالات کے جواب میں کہا کہ 2022ء میں پاکستان کا ایک تہائی حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا تھا اور اس سال بھی 65 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہوئے، پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے لیکن ماحولیاتی بحران کی پہلی صف میں کھڑا ہے۔انہوں نے خواتین کے بااختیار بنانے کے حوالے سے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام خواتین کی معاشی خودمختاری کا کامیاب ماڈل ہے جسے عالمی بینک نے بھی بہترین عملی مثال قرار دیا ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ جب آبادی کا دباؤ ماحولیاتی تبدیلی، غذائی عدم تحفظ اور کمزور موافقتی صلاحیت کے ساتھ جڑتا ہے تو مسائل کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، آب و ہوا سے متاثرہ ہجرت ہمارے شہروں کا نقشہ بدل رہی ہے۔فریقین نے اتفاق کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی، معاشی استحکام اور انسانی ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے چیلنج ہیں جن کے حل کے لئے طویل المدتی شراکت داری ضروری ہے۔

وفد میں شامل دیگر اراکین میں خوان فرنینڈو لوپیز آگویلار (سپین)، رائن ہولڈ لوپاٹکا (آسٹریا)، آندریس پیٹرسن، کرسچین میسیتھ، جانیتا چوجکووا، ریمونڈاس کاروبلس (یورپی یونین کے سفیر برائے پاکستان)، جیرون ویلمز، سیبسٹین لوریون اور بریحنا اجمل شامل تھیں۔