آوارہ کتوں کے خاتمہ کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی ، درخواست گزار کے وکیل سے تحریری تجاویز طلب

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے آوارہ کتوں کے خاتمہ اور مبینہ نسل کشی کے خلاف درخواست پر سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی جانب سے فریم ورک رپورٹ جمع کرانے پر درخواست گزار کے وکیل سے تحریری تجاویز طلب کر لیں ۔ پیر کے روز جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواست پر سماعت کی ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے آوارہ کتوں کے خاتمہ اور مبینہ نسل کشی کے خلاف درخواست پر سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی جانب سے فریم ورک رپورٹ جمع کرانے پر درخواست گزار کے وکیل سے تحریری تجاویز طلب کر لیں ۔ پیر کے روز جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواست پر سماعت کی ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم اس معاملے کو تفصیلی طور پر سن کر نمٹانا چاہتے ہیں، اسلام آباد جیسے دارالحکومت میں کتوں کے حقوق کے لئے پٹیشن آنا حیران کن ہے۔

9اکتوبر کو مردہ کتوں کی ویڈیو وائرل ہونے کے معاملے پر جسٹس خادم سومرو نے سرکاری وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈرائیور پر تو ایف آئی آر ہو گی اور جب مقدمہ ہو گا تو وہ بتائے گا کہ کس کے کہنے پر یہ سب ہوا۔ جسٹس خادم سومرو نے مزید کہا کہ سی ڈی اے کی گاڑی میں مردہ کتے پائے گئے، ویڈیو بنی اور ڈرائیور بھاگ گیا۔ بادی النظر میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں اتنے کتے مرے ہوئے پائے جائیں؟ سماعت کے دوران پاکستان ریپبلک پارٹی کی سربراہ ریحام خان روسٹرم پر آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد کسی کے خلاف مقدمہ درج کرانا نہیں بلکہ آوارہ کتوں سے متعلق پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنوانا ہے ، ہمیں کسی این جی او یا ادارے سے فنڈز نہیں ملتے ۔سی ڈی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 9اکتوبر کو جس گاڑی میں مردہ کتے پائے گئے وہ سینیٹیشن کی گاڑی تھی ۔

کئی کتے خود مارے گئے یا گاڑیوں کے نیچے آ کر مرے ۔ جنوری سے ستمبر تک پمز ہسپتال میں کتوں کے کاٹنے کے 2800 کیسز رپورٹ ہوئے، دیگر ہسپتالوں کے کیسز الگ ہیں۔جسٹس خادم سومرو نے ریمارکس دیئے کہ جب ہر کتے پر انیس ہزار روپے خرچ کئے جا رہے ہیں تو پھر مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ پاکستان پینل کوڈ کے تحت کتوں کو مارنا جرم ہے ۔ عدالت نے سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی رپورٹ پر وکیل درخواست گزار سے تحریری تجاویز طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔ تحریری حکمنامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔