27 اکتوبر کا دن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبر اور حق خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کا احاطہ کرتا ہے، سحر کامران

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر کا دن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبر اور حق خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کا احاطہ کرتا ہے، 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کا مقصد کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا اور اسے زبردستی ہندوستانی یونین میں ضم کرنا ہے۔ان خیالات …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر کا دن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبر اور حق خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کا احاطہ کرتا ہے، 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کا مقصد کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا اور اسے زبردستی ہندوستانی یونین میں ضم کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر کے 78 ویں یوم سیاہ کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کی تمام راہیں کشمیر سے گزرتی ہیں، کشمیری عوام 78 سالوں سے یہ سیاہ دن دیکھ رہے ہیں ، ہر سال 27 اکتوبر کو بھارتی افواج کے کشمیر پر غیر قانونی تسلط کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سحر کامران نے کہا کہ آج کا دن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبر اور حق خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کا احاطہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کا مقصد کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا اور اسے زبردستی ہندوستانی یونین میں ضم کرنا ہے اور مسلم آبادی کو منظم طریقے سے بے اختیار اور حق رائے دہی سے محروم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بہادری سے مظالم کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں، عالمی شعور اجاگر کرنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ کشمیری عوام کے جائز حقوق کے لیے کھڑے ہوں۔