اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):سینٹ کی قائمہ کمیٹی ریلوے نے وزیرِ ریلوے کی مسلسل غیرحاضری اور وزارت کی جانب سے درست اور مکمل معلومات فراہم نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔سینیٹر شہادت اعوان نے یاد دلایا کہ وزیرِ ریلوے نے پہلے اجلاس میں شرکت اور کمیٹی کو …
سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیرِ صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):سینٹ کی قائمہ کمیٹی ریلوے نے وزیرِ ریلوے کی مسلسل غیرحاضری اور وزارت کی جانب سے درست اور مکمل معلومات فراہم نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔سینیٹر شہادت اعوان نے یاد دلایا کہ وزیرِ ریلوے نے پہلے اجلاس میں شرکت اور کمیٹی کو بریفنگ دینے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ایف آئی آر نمبر 1/2018 کے معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ 395 ایکڑ ریلوے اراضی سے متعلق سنگین نوعیت کا کیس ہے تاہم وزارت کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ نامکمل ہے جس کے مالیاتی مضمرات نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے کے معاملے پر نوٹس لیا جائے اور تاخیر کی باضابطہ وضاحت طلب کی جائے۔کمیٹی نے قرار دیا کہ کسی پارلیمانی کمیٹی کو غلط یا نامکمل معلومات فراہم کرنا پارلیمانی روایات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ اس معاملہ کو وزیرِاعظم کے علم میں لایا جائے کیونکہ وزارت کا غیر تعاون رویہ کمیٹی کے احتسابی کردار کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وزارت کی درخواست پر اجلاس پہلے ہی کئی بار مؤخر کیا جا چکا ہے۔
کمیٹی نے ایم ایل-1 منصوبے میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیا جس پر فوری پیشرفت کی ضرورت ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے پیشرفت نہ ہونے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے وزارت سے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا۔اراکین نے مزید ریلوے ملازمین کے بوسیدہ کوارٹرز، گیسٹ ہاؤسز پر غیرضروری اخراجات، اور ریلوے اراضی پر قبضوں کے مسائل بھی اٹھائے۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ ان تمام معاملات پر تفصیلی رپورٹ بشمول بھلوال ٹینڈر انکوائری اور ایف آئی آر نمبر 1/2018 کی پیش رفت—اگلے اجلاس میں پیش کی جائے۔کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ وزیرِ ریلوے آئندہ اجلاس میں لازمی طور پر شرکت کریں اور کمیٹی کو اپنی بریفنگ دے کر اپنا پچھلا وعدہ پورا کریں۔








