کوئٹہ۔ 27 اکتوبر (اے پی پی):ملک بھر کی طرح یونیورسٹی آف تربت میں بھی 1947 کو جموں و کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضہ اور جاری جارحیت کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا۔ اس موقع پر تقریب میں یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں تربت یونیورسٹی کے رجسٹرار گنگزار بلوچ، فیکلٹی آف لا ء کے ڈین ڈاکٹر مظفر حسین اور ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز چاکر حیدر نے …
عالمی برادری مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، یوم سیاہ پر یونیورسٹی آف تربت میں تقریب سے مقررین کا خطاب

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 27 اکتوبر (اے پی پی):ملک بھر کی طرح یونیورسٹی آف تربت میں بھی 1947 کو جموں و کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضہ اور جاری جارحیت کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا۔ اس موقع پر تقریب میں یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں تربت یونیورسٹی کے رجسٹرار گنگزار بلوچ، فیکلٹی آف لا ء کے ڈین ڈاکٹر مظفر حسین اور ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز چاکر حیدر نے خطاب کیا۔
اس موقع پر تربت یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اعجاز احمد بھی موجودتھے-مقررین نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کے تاریخی پس منظر اور بھارت کی جانب سے جاری ظلم و جبر پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، جب بھارت نے کشمیری عوام کی مرضی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی فوجیں وادی میں اتاریں۔
اسی دن سے کشمیری عوام بھارتی ناجائز تسلط، ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقررین نے پاکستان کے کشمیر پر دوٹوک اور اصولی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام کو بھارتی ناجائزقبضے سے مکمل آزادی حاصل نہیں ہو جاتی۔
اس موقع پر مقررین اور شرکاء نے کشمیری عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ اس موقع پر جموں و کشمیر پر بھارتی جارحیت کے خلاف اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔








