عالمی چیلنجز کے مشترکہ حل میں پارلیمانوں کا کردار انتہائی اہم ہے،سینیٹر شیری رحمان کی یورپی یونین کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹ میں پارلیمانی رہنما اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان سےیورپی یونین کی پارلیمانی کمیٹی برائے ترقی (DEVE) کے وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق وفد کی قیادت یورپی یونین کے رکن لوکاس مینڈل (EPP، آسٹریا) نے کی، ان کے ہمراہ رابرٹ بیڈرون (نائب …

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹ میں پارلیمانی رہنما اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان سےیورپی یونین کی پارلیمانی کمیٹی برائے ترقی (DEVE) کے وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق وفد کی قیادت یورپی یونین کے رکن لوکاس مینڈل (EPP، آسٹریا) نے کی، ان کے ہمراہ رابرٹ بیڈرون (نائب چیئرمین ڈی ای وی ای اور یورپی پارلیمنٹ کے سینئر اراکین شامل تھے۔

سینیٹر شیری رحمان نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانوں کے مابین دوطرفہ سفارت کاری عالمی چیلنجوں کے مشترکہ حل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصاً ترقیاتی تعاون، تجارت، عوامی صحت، نقل مکانی اور جاری انسانی بحرانوں کے شعبوں میں تعاون انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمانی مکالمے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہم نے عالمی موسمیاتی عمل اور کثیرالجہتی فورمز پر یورپی ساتھیوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر کام کیا ہے اور یورپی یونین کے مسلسل تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اقتصادی تعاون کے حوالے سے سینیٹر شیری رحمان نے یورپی یونین کے ”جی ایس پی پلس” پروگرام کی توسیع اور تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 9 ارب ڈالر ہیں جبکہ کل دوطرفہ تجارت کا حجم 12 ارب ڈالر ہے۔ 2024ء میں یورپی یونین پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار تھا جو کل تجارت کا 12.4 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ تجارت معاشروں کو مضبوط بناتی ہے اور روزگار پیدا کرتی ہے۔

ہم یورپی یونین کے ‘گلوبل گیٹ وے انیشی ایٹو’ اور آنے والے ‘ای یو-پاکستان بزنس فورم’ کے ذریعے تعاون کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ وفد کے سربراہ لوکاس مینڈل نے پاکستان کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کے درمیان براہِ راست رابطہ بہت اہم ہے۔ یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ یورپی پارلیمنٹ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔

ہم یہاں پاکستان کی ترجیحات، چیلنجز اور باہمی تعاون کے امکانات کو سمجھنے کے لیے آئے ہیں۔ڈی ای وی ای کے نائب چیئرمین رابرٹ بیڈرون نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی موسمیاتی مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔ آبی وسائل کا انتظام، پن بجلی کی ترقی، اور جنگلات کی کٹائی روکنے جیسے مسائل انتہائی اہم ہیں۔سینیٹر شیری رحمان نے وفد کے سوالات کے جواب میں پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2022ء میں پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا، اور اس سال بھی 65 لاکھ افراد براہِ راست سیلاب سے متاثر ہوئے۔

لوگ زندگیاں، روزگار، مویشی، زمین اور مٹی کی زرخیزی کھو دیتے ہیں۔ پاکستان کا عالمی اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، مگر ہم موسمیاتی بحران کی صفِ اول پر ہیں۔”سماجی تحفظ اور خواتین کے بااختیار بنانے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام گھریلو سطح پر خواتین کو براہِ راست بااختیار بناتا ہے اور عالمی بینک کے مطابق دنیا بھر میں بہترین ماڈل مانا گیا ہے۔ حقیقی ترقی کے لیے خواتین کی معاشی شمولیت ناگزیر ہے ۔

انہوں نے آبادی کے دباؤ کو موسمیاتی دباؤ، غذائی عدم تحفظ اور موافقت کی محدود صلاحیت کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔ موسمیاتی نقل مکانی ہمارے شہروں کا نقشہ بدل رہی ہے، اور غیر رسمی بستیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جہاں بلدیاتی سہولیات کی فراہمی ممکن نہیں۔دونوں جانب اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی، اقتصادی مضبوطی اور انسانی ترقی باہمی طور پر جڑے ہوئے چیلنجز ہیں جن کے لیے پائیدار شراکت داری درکار ہے۔

فریقین نے طے کیا کہ دوطرفہ روابط کو مزید منظم کیا جائے گا، ترقیاتی تعاون کو وسعت دی جائے گی اور پارلیمانی تبادلے کو فروغ دیا جائے گا۔یورپی پارلیمنٹ کے دیگر سینئر ارکان میں سپین سے خوان فرنینڈو لوپیز آگویلار (S&D)،آسٹریا سے ایم ای پی رین ہولڈ لوپاٹکا (EPP )، ای پی پی گروپ ایڈوائزرآندرس پیٹرسن ، کمیٹی سیکرٹریٹ ایڈمنسٹریٹر کرسچن میسیتھ ، کمیٹی سیکرٹریٹ اسسٹنٹ جینیٹا چویکووا ، یورپی یونین کے سفیر برائے پاکستان ریمونڈس کاروبلس ، ہیڈ آف کوآپریشن، ای یو ڈی جیرون ولیمز ، ٹیم لیڈ گورننس اینڈ ہیومن کیپیٹل، ای یو ڈی سیباسچن لوریون ، اور پروگرام مینیجر، پارلیمنٹس اینڈ جینڈر ایکوالیٹی، ای یو ڈی بریخنہ اجمل شامل تھے۔