جمہوریت کی بقا کارکردگی، نمائندگی اور شفافیت سے مشروط ہے، عوام کی خدمت اور اعتماد کی بحالی کے بغیر جمہوری نظام مضبوط نہیں ہو سکتا، احسن اقبال

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ جمہوریت کی بقا کارکردگی، نمائندگی اور شفافیت سے مشروط ہے، عوام کی خدمت اور اعتماد کی بحالی کے بغیر جمہوری نظام مضبوط نہیں ہو سکتا۔وہ منگل کوقومی کانفرنس بعنوان ’’سوشل ڈیموکریسی: مقامی اور عالمی جہت‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان وژن ملک کو معاشی …

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ جمہوریت کی بقا کارکردگی، نمائندگی اور شفافیت سے مشروط ہے، عوام کی خدمت اور اعتماد کی بحالی کے بغیر جمہوری نظام مضبوط نہیں ہو سکتا۔وہ منگل کوقومی کانفرنس بعنوان ’’سوشل ڈیموکریسی: مقامی اور عالمی جہت‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان وژن ملک کو معاشی طور پر مضبوط، جدید اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا منصوبہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنائے بغیر جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکتی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بغیر عوامی شمولیت ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین اور نوجوانوں کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ یہی طبقے ملک کے مستقبل کی قیادت کریں گے۔پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ شفاف احتساب کا نظام جمہوریت کا مستقل اور لازمی جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب سیاسی انتقام نہیں بلکہ ادارہ جاتی شفافیت اور اعتماد کی بنیاد ہونا چاہیے۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے گورننس میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کو ’’ای-پاکستان‘‘ کے سنگ میل منصوبے کے طور پر قرار دیا جو شفاف پالیسی سازی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ جمہوری نظام کو اکیسویں صدی کی تیز رفتار سماجی و ٹیکنالوجیکل تبدیلیوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیسویں صدی کا جمہوری ماڈل دنیا کے مختلف حصوں میں فیل ہو رہا ہے، اس لیے جمہوریت کو نئے چیلنجز کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام پہلے سے زیادہ باخبر اور بااختیار ہو چکے ہیں، اس لیے اب پالیسیوں اور اداروں میں عوامی شمولیت اور اصلاحات ضروری ہیں۔وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جرمنی کے ساتھ مضبوط شراکت داری پاکستان کی قومی پالیسی کا حصہ ہے اور دونوں ممالک سماجی جمہوریت، اقتصادی تعاون اور پائیدار ترقی کے لیے باہمی تعلقات کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔