پاکستان کا اقوام متحدہ میں ’’ایک چین ‘‘ پالیسی کی حمایت کا اعادہ، چین کے مستقل مشن کے زیر اہتمام تقریب میں پاکستان کے سابق مندوب منیر اکرم کی بطور مہمان خصوصی شرکت

اقوام متحدہ۔28اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ سیمینار میں’’ون چائنا‘‘پالیسی پر قائم رہنے کی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان عوامی جمہوریہ چین کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے جسے کبھی بھی مادر وطن سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔سیمینار کے مہمان خصوصی اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم تھے۔ قوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل …

اقوام متحدہ۔28اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ سیمینار میں’’ون چائنا‘‘پالیسی پر قائم رہنے کی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان عوامی جمہوریہ چین کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے جسے کبھی بھی مادر وطن سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔سیمینار کے مہمان خصوصی اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب منیر اکرم تھے۔

قوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سیمینار میں شریک 40 کے قریب سفارت کاروں اور ماہرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سدا بہار تعاون پر مبنی شراکت دار ی اور آہنی دوست کے طور پر پاکستان ہمیشہ ’’ون چائنا ‘‘ اصول پر کاربند رہاہے اور یہ موقف عالمی برادری کی طرف سے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے اور قانونی حیثیت رکھتاہے۔

سیمینار کی میزبانی اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن نے کی۔جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 کی شرائط کے تحت، جسے 25 اکتوبر 1971 کو بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا تھا کے تحت تائیوان کی اقوام متحدہ میں رکنیت کو ختم کر دیا گیا تھا اور عوامی جمہوریہ چین کے قانونی حقوق بحال ہو گئے تھے۔

قرارداد میں چینی حکومت کے نمائندوں کو اقوام متحدہ میں چین کے واحد جائز نمائندے کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا ۔ اس وقت کے پاکستانی وفد نے، جس کی قیادت پاکستان کے مایہ ناز سفارت کار آغا شاہی کر رہے تھے، نے اس مہم میں اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجہ میں آزادی کے 23 سال بعد اقوام متحدہ میں چین کے ناقابل تنسیخ حقوق بحال ہو گئے۔

پاکستانی مندوب نے اسے ایک ایسا دور رس واقعہ قرار دیا جس نے عالمی سیاست اور کثیرالجہتی سفارت کاری میں ایک نئے دور کا آغاز کیا جس نے اس بات کی تصدیق کی کہ وقار، آزادی اور احترام کے لئے لوگوں کی جائز خواہشات کو نہ تو جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی غیر معینہ مدت کے لئے تاخیر کی جا سکتی ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ میں چین کے جائز حقوق کی بحالی نے اس تنظیم کو نئی طاقت، جاندار اور قانونی حیثیت دی ہے۔

پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ اپنی درست واپسی کے بعد سے، چین، ایک ذمہ دار رکن ریاست اور ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر کام کرتے ہوئے، بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کو آگے بڑھانے میں قابل تعریف کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں، چینی قیادت اور عوام کی امنگوں کے مطابق، پرامن دوبارہ اتحاد کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔

چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت میں چین دنیا کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لئے فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ چینی صدر کی دور اندیشی نے عالمی سطح پر چین کے پرامن عروج کی قیادت کی ہے اور اسے ترقی، استحکام اور جیت کے تعاون کے چیمپئن کے طور پر مقام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون کے لئے چین کی ثابت قدمی اور کثیرالجہتی سفارت کاری کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لئے اس کی بھرپور کوششیں گہرے اطمینان کا باعث ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ چین اقوام متحدہ میں نئے سرے سے متحرک ہونے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور کثیرالجہتی سفارت کاری کو تقویت دینے میں قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

اس عظیم مقصد کے حصول میں چین کو ہمیشہ پاکستان کی مضبوط حمایت اور تعاون حاصل رہے گا۔قبل ازیں اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر منیر اکرم، جنہیں سیمینار میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا، نے امریکی مخالفت کے باوجود قرارداد 2758 کی منظوری سے قبل ہونے والی ڈرامائی پیش رفت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ۔ وہ اس وقت اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

1971 میں امریکا نے طریق کا ر کی پیچیدگیوں کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے جنرل اسمبلی میں چین کی نمائندگی کو ’’اہم سوال‘‘ کے طور پر نامزد کرنے کی قرار داد پیش کر دی جس کے لیے دو تہائی اکثریت کے ووٹ کی ضرورت تھی۔ اس دوران پاکستان، الجزائر اور 21 دیگر ممالک نے اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کے تمام قانونی حقوق بحال کرنے اور چیانگ کائی شیک کی حکومت کے نمائندوں کو اقوام متحدہ سے نکالنے کی قرارداد پیش کی۔

منیر اکرم نے کہا کہ خوش قسمتی سے ہم کامیاب رہے اور ’’اہم سوال‘‘ کی امریکی قرارداد کے حق میں 55 اور مخالفت میں 59 ووٹ پڑے جس کی وجہ سے یہ قرار داد منظور نہ ہوسکی۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو کانگ نےمنیر اکرم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں ایک ’’محترم سفارت کار‘‘ قرار دیا۔ چینی مندوب نے کہا کہ تائیوان چین کی سرزمین کا ایک لازم و ملزوم حصہ ہے۔

یہ ایک غیر متزلزل تاریخی اور قانونی حقیقت ہے۔ تائیوان کی غیر متعین حیثیت ایک من گھڑت جھوٹ ہے جسے بہت کم قوتوں نے فروغ دیا ہے۔ قرارداد 2758 کی کوئی بھی تحریف یا غلط تشریح عالمی نظام کو چیلنج کرتی ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ اور اقوام متحدہ کی اتھارٹی کامیاب نہیں ہو گی ۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے قائم رہے گی ۔اس موقع پر اقوام متحدہ میں الجزائر کے سفیر امر بیندجمعہ ، برازیل کے سفیر سرجیو فرانکا ڈینیس ،نکاراگوا کی سفیر جمائما ہرمیڈا کاسٹیلو اور کمبوڈیا کے سفیر چھیا کیو نے ایک چین اصول کی حمایت کا اظہار کیا۔