ملتان۔ 28 اکتوبر (اے پی پی):ایوانِ تجارت و صنعت ملتان کے سابق صدر خواجہ محمد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت امید افزا مرحلے پر پہنچ چکی ہے، جہاں اصلاحات کی رفتار تیز ہو رہی ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور عالمی شراکت داریاں ترقی کے نئے دروازے کھول رہی ہیں، حکومتِ پاکستان نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت صنعتوں کی بحالی، …
پاکستانی معیشت اصلاحات اور سرمایہ کاری کے نئے دور میں داخل ہوچکی ہے، صنعتوں کی بحالی کیلئے حکومتی اقدامات حوصلہ افزا ہیں، خواجہ محمد حسین
ملتان۔ 28 اکتوبر (اے پی پی):ایوانِ تجارت و صنعت ملتان کے سابق صدر خواجہ محمد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت امید افزا مرحلے پر پہنچ چکی ہے، جہاں اصلاحات کی رفتار تیز ہو رہی ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور عالمی شراکت داریاں ترقی کے نئے دروازے کھول رہی ہیں، حکومتِ پاکستان نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت صنعتوں کی بحالی، برآمدات کے فروغ اور پائیدار سرمایہ کاری کے لیے آٹھ خصوصی ورکنگ گروپس قائم کیے ہیں ،جو ملکی معیشت کے استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے،چینی کمپنی BYD کراچی میں الیکٹرک وہیکل پلانٹ قائم کر رہی ہے،ہانگ کانگ کی کمپنی CK Hutchison بندرگاہ کی توسیع میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہی ہے۔
امریکی ادارہ U.S. Strategic Metals معدنیات کے شعبے میں 50 کروڑ ڈالر لگا رہا ہے،چیک ریپبلک کی کمپنی IceWarp ڈیٹا سینٹر آپریشن شروع کر رہی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات (UAE) نے مختلف شعبوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے،یہ تمام سرمایہ کاری اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان غیر یقینی صور تحال سے نکل کر حکومت، مقامی صنعتکاروں اور عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان عملی تعاون کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے ،حالیہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاہدے پاکستان کی معاشی صلاحیت پر بین الاقوامی اعتماد کی بحالی کاواضح ثبوت ہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نےموجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پرمنگل کویہاں جاری ایک بیان میں کیا۔
خواجہ محمد حسین نےکہا کہ اگرحکومت پالیسیوں میں تسلسل، منصفانہ ٹیکسیشن اور صنعت کے لیے حقیقی معاونت فراہم کرے تو پاکستان نہ صرف موجودہ معاشی چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے بلکہ ایک پائیدار اور دیرپا معاشی بحالی کی راہ پربھی گامزن ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سمت درست ہے، اصلاحات جاری ہیں اور عالمی اعتماد بحال ہو رہا ہے، اب ضرورت صرف تسلسل اور عملی عملدرآمد کی ہے۔









