اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد میں آلودگی پھیلانے والے اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف پاک ای پی اے اور آئی سی ٹی نے مشترکہ انسدادِ اسموگ آپریشن کرتے ہوئے متعدد بھٹے مسمار کر دیئے ہیں۔بدھ کو وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد میں فضائی آلودگی اور سموگ پر قابو پانے کے لئے ایک فیصلہ کن اقدام کے تحت پاکستان ماحولیاتی …
پاک ای پی اے اور آئی سی ٹی کا اسلام آباد میں آلودگی پھیلانے والے اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف مشترکہ انسدادِ سموگ آپریشن ،متعدد بھٹے مسمار

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد میں آلودگی پھیلانے والے اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف پاک ای پی اے اور آئی سی ٹی نے مشترکہ انسدادِ اسموگ آپریشن کرتے ہوئے متعدد بھٹے مسمار کر دیئے ہیں۔بدھ کو وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد میں فضائی آلودگی اور سموگ پر قابو پانے کے لئے ایک فیصلہ کن اقدام کے تحت پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اسلام آباد (پاک ای پی اے اسلام آباد) نے وفاقی دارالحکومت میں روایتی اور ماحولیاتی قوانین سے غیر مطابقت رکھنے والے بھٹوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیاجو زِگ زَیگ ٹیکنالوجی استعمال کئے بغیر ماحول کو آلودہ کر رہے تھے۔
یہ کارروائی ڈائریکٹر پاک ای پی اے اسلام آباد خالد محمود چدھڑ کی سربراہی میں ڈائریکٹر جنرل پاک ای پی اے کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ اس آپریشن کا ہدف H-16 اور H-17 سیکٹرز میں واقع وہ بھٹے تھے جو مسلسل زہریلا دھواں اور مضر ذرات فضا میں خارج کر رہے تھےجو ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔یہ کارروائی اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری انتظامیہ، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور اسلام آباد پولیس کے قریبی اشتراک سے عمل میں لائی گئی ۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاک ای پی اے اور آئی سی ٹی انتظامیہ نے بارہا بھٹہ مالکان کو نوٹسز، وارننگز اور بندش کے احکامات جاری کئے تھے کہ وہ اپنی بھٹیاں زِگ زَیگ ٹیکنالوجی میں تبدیل کریں جو ایک ماحول دوست طریقہ کار ہے اور روایتی بھٹوں میں جلنے والے ایندھن سے خارج ہونے والی گرمی پھنسانے والی کاربن گیسوں کو نمایاں طور پر کم کرتا ہےتاہم متعدد مواقع دینے کے باوجود کئی بھٹہ مالکان نے غیر قانونی طور پر بھٹے چلانا جاری رکھاجس کے باعث سخت کارروائی ناگزیر ہو گئی۔
انہوں نے بتایا کہ رواں ماہ کے اوائل میں قومی اخبارات میں شائع ہونے والے ایک حتمی عوامی نوٹس میں بھٹہ مالکان کو 20 اکتوبر 2025 تک زِگ زَیگ ٹیکنالوجی اپنانے کی مہلت دی گئی تھی۔ مقررہ تاریخ کے بعد بھی جو بھٹے غیر قانونی طور پر چلتے پائے گئے ان کی بلا تاخیر مسماری شروع کر دی گئی ہے۔وزارت ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ حکومت عوامی صحت اور ماحول کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے لئے زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہے، غیر مطابقت رکھنے والے بھٹوں کی مسماری حکومت کے اس غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے جو ماحولیاتی قوانین کے بلا امتیاز نفاذ اور شہریوں کو صاف فضا کی فراہمی کے لئے کیا جا رہا ہے خاص طور پر جب سردیوں کے سموگ کا موسم شروع ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت، پاک ای پی اے اسلام آباد کے ذریعے مقامی انتظامیہ اور صنعتوں کے ساتھ مل کر صاف ٹیکنالوجیز اور پائیدار صنعتی طریقہ کار کو فروغ دینے کے لئے کام جاری رکھے گی،ہم تمام بھٹہ مالکان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر زِگ زَیگ ٹیکنالوجی اختیار کریں، عوامی صحت اور ماحولیاتی تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دریں اثنا، پاک ای پی اے اسلام آباد کے خالد محمود چدھڑ نے کہا کہ یہ آپریشن قومی انسدادِ سموگ حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ہوا کے معیار کو بہتر بنانا، مضر ذرات کی آلودگی کم کرنا اور پاکستان کے پائیدار ترقی و ماحولیاتی تحفظ کے عزم کو مضبوط بنانا ہے۔








