سپریم کورٹ نے پنجاب سروس ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملازم کی ترقی اور سلیکشن گریڈ بحال کر نے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب سروس ٹربیونل لاہور کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایک ملازم کی ترقی اور سلیکشن گریڈ بحال کر نے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔سپریم کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر بدھ کو جاری فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنھور نے تحریر کیا۔ مقدمہ میں درخواست گزار نے 15 مارچ 2022ء کے پنجاب سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل …

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب سروس ٹربیونل لاہور کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایک ملازم کی ترقی اور سلیکشن گریڈ بحال کر نے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔سپریم کورٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر بدھ کو جاری فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنھور نے تحریر کیا۔ مقدمہ میں درخواست گزار نے 15 مارچ 2022ء کے پنجاب سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس میں مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنر کا 1 اکتوبر 2018ء کا حکم برقرار رکھا گیا تھا۔

اس حکم کے ذریعے درخواست گزار کی بطور اسسٹنٹ ترقی اور 2005 میں دیے گئے سلیکشن گریڈ کو واپس لے کر اسے سینئر کلرک کے عہدے پر ریٹائرڈ قرار دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 13 ستمبر 2018ء کو جاری کردہ شوکاز نوٹس ’’قانونی تقاضوں‘‘ پر پورا نہیں اترتا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ نوٹس میں الزام کی تفصیلات، مجوزہ سزا اور متعلقہ قانونی شقوں کا ذکر تک شامل نہیں تھا جو فطری انصاف کے اصولوں اور منصفانہ سماعت کے بنیادی حق کے منافی ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ جب کوئی انتظامی فیصلہ برسوں تک نافذ العمل رہے، اس کے تحت مراعات دی جائیں اور کوئی غیرقانونی یا غیر مجاز اقدام ثابت نہ ہوتو اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔ اس موقع پر عدالت نے locus poenitentiae کے اصول کا حوالہ دیا اور کہا کہ انتظامیہ اپنے فیصلے سے محض بعد از وقت رجوع نہیں کر سکتی۔جسٹس صلاح الدین پنھور نے فیصلہ میں لکھا کہ پیڈا ایکٹ (PEEDA) کی دفعہ 4 کے تحت جو سزائیں مقرر ہیں، ان میں ترقی واپس لینا یا گریڈ تنزلی جیسی سزا شامل نہیں۔

اس کے باوجود ایسی سزا دینا قانون سے تجاوز ہے۔ مزید برآں، پیڈا ایکٹ کے تحت سزائیں صرف حاضر سروس ملازمین کو دی جا سکتی ہیں، ریٹائرڈ ملازمین پر نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ محکمانہ انکوائری میں 2005 کی ترقی کے احکامات جاری کرنے والے افسران یا ڈی پی سی کے ارکان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارروائی یکطرفہ اور انصاف کے اصولوں کے برعکس تھی۔

سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے پنجاب سروس ٹربیونل کا 15 مارچ 2022ء کا فیصلہ اور ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کا 1 اکتوبر 2018ء کا حکم کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار کی 2005ء کی ترقی اور سلیکشن گریڈ بحال کیے جائیں اور اس کی ریٹائرمنٹ اور مالی مفادات کو اسی کے مطابق درست کیا جائے۔ متعلقہ واجبات اور بقایاجات 60 روز میں ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔واضح رہے کہ اس مقدمے کی سماعت 15اکتوبر کو جسٹس شاہد وحید ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس صلاح الدین پنھور پر مشتمل بنچ نے کی تھی اور فیصلہ سنایا تھا ۔