پاکستان ابھرتے ہوئے عالمی رجحانات کے مطابق اپنے عدالتی اور قانونی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان ابھرتے ہوئے عالمی رجحانات کے مطابق اپنے عدالتی اور قانونی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل دور میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی توقعات کے مطابق انصاف کی فراہمی کو تیز، شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔وزارت قانون و انصاف کے ترجمان کے مطابق وفاقی وزیرِ قانون و …

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان ابھرتے ہوئے عالمی رجحانات کے مطابق اپنے عدالتی اور قانونی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل دور میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی توقعات کے مطابق انصاف کی فراہمی کو تیز، شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔وزارت قانون و انصاف کے ترجمان کے مطابق وفاقی وزیرِ قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ان خیالات کا اظہار روسی فیڈریشن کی میزبانی میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے انصاف کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اور پاکستان میں جاری قانونی اصلاحات اور ڈیجیٹل اقدامات کو اجاگر کیا۔

وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں وزارتِ قانون و انصاف کے تحت جاری مختلف اصلاحاتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نوآبادیاتی دور کے فرسودہ قوانین کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ انہیں آئینِ پاکستان اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ’’پاکستان کوڈ‘‘کے اجرا کو ایک نمایاں سنگِ میل قرار دیا ، جو ایک ڈیجیٹل قانونی ذخیرہ ہے اور شہریوں، وکلاء اور محققین کو وفاقی قوانین، قواعد و ضوابط تک آن لائن رسائی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کیس فائلنگ اور نگرانی کے عمل کو جدید بنانے کے لیے کیس اسائنمنٹ اینڈ مینجمنٹ سسٹم (کیمز) متعارف کرایا گیا ہے، جب کہ متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر ) کو فروغ دینے کے لیے انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی میک ) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔وزیرِ قانون نے بتایا کہ قانونِ شہادت (1984) میں ترمیم کے ذریعے ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی کی اجازت دی گئی ہے، جس سے عدالتی کارروائی میں مؤثریت اور سہولت پیدا ہوئی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان قانونی شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ایس سی او لیگل کوآپریشن فورم اور مشترکہ قانونی تربیتی اکیڈمی کے قیام کی تجویز پیش کی، تاکہ استعداد کار میں اضافہ ہو، بہترین طریقہ کار کا تبادلہ کیا جا سکے اور سائبر کرائم، ای۔کامرس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ضوابط سے متعلق ماڈل قوانین تیار کیے جا سکیں۔

انہوں نے علاقائی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک ماڈل ایس سی او سرمایہ کاری و ثالثی فریم ورک کی تیاری پر بھی زور دیا اور بین الاقوامی جرائم کے انسداد کے لیے رکن ممالک کے درمیان باہمی قانونی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ قانون و انصاف نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن انصاف کی فراہمی کے نظام میں سب سے بڑی تبدیلی لانے والا عنصر ہے، جو شفافیت، کارکردگی اور عوام کی عدلیہ تک رسائی کو بہتر بناتا ہے۔