اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدرسینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ توانائی کے منتقلی پر جامع مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ عالمی فورمز پر مشترکہ چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے، ہمیں اجتماعی طور پر توانائی کے مستقبل، قلت، تجدید پذیر ذرائع کی طاقت اور عالمی منظرنامے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے بدھ کو پری-کاپ 30 پاک-C2 انرجی ٹرانزیشن ڈائیلاگ سے خطاب …
توانائی کے منتقلی پر جامع مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ عالمی فورمز پر مشترکہ چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے، شیری رحمان

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدرسینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ توانائی کے منتقلی پر جامع مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ عالمی فورمز پر مشترکہ چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے، ہمیں اجتماعی طور پر توانائی کے مستقبل، قلت، تجدید پذیر ذرائع کی طاقت اور عالمی منظرنامے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے بدھ کو پری-کاپ 30 پاک-C2 انرجی ٹرانزیشن ڈائیلاگ سے خطاب کرتےہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ کئی ممالک نے صرف نیٹ زیرو نہیں بلکہ مثبت تبدیلی کے وعدے کیے ہیں چین کی صاف توانائی میں سرمایہ کاری حیران کن ہے۔ چین فوٹو وولٹائیک ٹیکنالوجی بھی تیار کر رہا ہے باوجود اس کے کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی مالیات کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی مدد آپ کے تحت شمسی توانائی کو اپنایا ہے جو امید کی ایک کرن ہے۔
قابلِ تجدید توانائی فوسل فیولز کی جگہ نہیں لے رہی بلکہ ان میں اضافہ کر رہی ہے جس سے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فوسل فیول کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہر سال سات ٹریلین ڈالر کی سبسڈیز دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ عالمی فوسل فیول کمپلیکس مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے،پاکستان جیسے ممالک جو ایک فیصد سے بھی کم اخراج کرتے ہیں، دوسروں کے اخراج کی قیمت انسانی اور معاشی نقصان سے ادا کر رہے ہیں.
مقامی آلودگی، فصلوں کی باقیات جلانے، بھٹوں اور گاڑیوں کے دھوئیں پر بھی احتساب کی گفتگو ضروری ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ بیشتر ممالک کو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں،پاکستان میں یہ تبدیلی ابھی ممکن نہیں ہو پائی۔ پاکستان نے اچھی ای وی پالیسی بنائی ہے اور چین کی بڑی سرمایہ کاری اس شعبے میں آ رہی ہے۔ یہ سرمایہ کاری گرڈ سٹیشنز اور گھریلو چارجنگ کے فروغ میں مدد دے سکتی ہےتاہم علاقائی سلامتی کی صورتحال اس پیش رفت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ سب کو ایک ہی سبز توانائی کے خواب کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کاسا 1000 منصوبے کو عالمی بینک کی فنڈنگ ملی مگر افغانستان کی سلامتی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ٹیکنالوجی ممالک کے درمیان مشترکہ مواقع فراہم کر سکتی ہے اور اسے مشترکہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی نظام میں جب تنقیدی اکثریت حاصل ہو تو سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے،پاکستان نے این ڈی سی 3.0 کے تحت 2035 تک 565.7 ارب ڈالر کی عالمی ماحولیاتی مالی معاونت کی درخواست دی ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کا ہدف گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 2.559 ارب ٹن سے کم کر کے 1.28 ارب ٹن تک لانا ہے۔ 2021 سے 2025 کے دوران پاکستان نے بیرونی امداد کے بغیر 37 فیصد اخراج میں کمی حاصل کی۔ علاقائی توانائی کی طلب، ٹیکنالوجی اور کثیرالجہتی فورمز میں شرکت کو کوپ 30 مذاکرات سے جوڑا جا رہا ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ آئی ای اے کے مطابق 2030 تک 1.5 ڈگری ہدف برقرار رکھنے کے لیے 4.5 ٹریلین ڈالر کی سالانہ سرمایہ کاری درکار ہے۔ موجودہ وعدے زمین کے درجہ حرارت کو 2.5 سے 2.7 ڈگری تک بڑھا سکتے ہیں۔ دنیا کو 2030 تک ہر سال 4.5 ٹریلین ڈالر صاف توانائی میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔








