فیصل آباد۔ 30 اکتوبر (اے پی پی):گل پروری کی صنعت کو ترقی دے کر پاکستان نہ صرف اس خطے کے منفرد اور خوشنما پھولوں کی برآمد سے اربوں ڈالر کما سکتا ہے بلکہ ان کے ذریعے زرعی ٹورازم کو بھی پائیدار بنیادوں پر ترقی دی جا سکتی ہے۔معروف گل پرور جاوید احمدنے اے پی پی کو بتایا کہ انہوں نے600کینال پرگل لالہ کا باغ لگایا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا …
گل پروری کو فروغ دیکرمنفرد اور خوشنما پھولوں کی برآمد سے اربوں ڈالر کمائے جاسکتے ہیں،جاوید احمد
فیصل آباد۔ 30 اکتوبر (اے پی پی):گل پروری کی صنعت کو ترقی دے کر پاکستان نہ صرف اس خطے کے منفرد اور خوشنما پھولوں کی برآمد سے اربوں ڈالر کما سکتا ہے بلکہ ان کے ذریعے زرعی ٹورازم کو بھی پائیدار بنیادوں پر ترقی دی جا سکتی ہے۔معروف گل پرور جاوید احمدنے اے پی پی کو بتایا کہ انہوں نے600کینال پرگل لالہ کا باغ لگایا ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان پھولوں کی برآمد سے بھاری زرمبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ مارچ میں موسم بہار کے دوران بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں جس سے ان کی فروخت کے باعث معیشت کو تقویت ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں زرعی سیاحت کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے حکومت کی طرف سے سیاحت کے فروغ کیلئے کی جانے والی کوششوں کو انتہائی بروقت قراردیا تاہم کہا کہ ان میں نجی شعبہ کو براہ راست شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کا گٹ والا پارک20 ایکڑ پر محیط ہے اگر اس کو ایگری ٹورازم کے فروغ کیلئے نجی شعبہ کو دیدیا جائے تو نہ صرف اس سے لاکھوں روپے کی آمدن ہو سکتی ہے بلکہ تفریحی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ہر بل مصنوعات کی برآمد بھی شروع کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے رانا ریزارٹ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ صرف 3 مربع زمین پر مشتمل ہے جس سے اس کے مالکان لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کی نہروں کیساتھ ساتھ تفریحی مقامات کی ترقی پر بھی زور دیا اور بتایا کہ ہر پانچ میل کے فاصلے پر نصف مربع پر مشتمل محکمہ نہر کے بنگلے موجود ہیں جن کو تفریح گاہوں کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے۔









