اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں کی خستہ حالی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت جمعرات کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم خیبرپختونخوا نے مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ سپریم کورٹ نے محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کو عملدرآمد کے لیے چھ ماہ کی مزید مہلت دیتے ہوئے ہدایت …
سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں کی خستہ حالی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت، صوبائی حکومت کو سکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے مزید 6 ماہ کی مہلت

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں کی خستہ حالی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت جمعرات کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم خیبرپختونخوا نے مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔
سپریم کورٹ نے محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کو عملدرآمد کے لیے چھ ماہ کی مزید مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ جامع اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد جاری ہے۔ اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 2005ء کے زلزلے کے بعد بھی کئی سکولوں کی تعمیر مکمل نہیں ہوسکی ، نئے سکول بنانا ضروری ہے مگر پرانے سکولوں کی عمارات کی مرمت بھی لازم ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ مانسہرہ میں 107 اور کوہستان میں 11 یونٹس پر ابھی کام مکمل نہیں ہوا۔
ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم نے مؤقف اپنایا کہ مزید تین ماہ کا وقت درکار ہے جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل نے کہا کہ سردی کے موسم میں برفباری کے باعث کام متاثر ہوتا ہے۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آپ کی درخواست پر مہلت دی، اب پیشرفت دکھائیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ 2005 کے زلزلے کو 20 سال گزر چکے، ہم 2025 میں بیٹھے ہیں، اب مزید کتنا وقت درکار ہے؟ عدالت نے واضح کیا کہ ہمارا کام سکول بنانا نہیں بلکہ عملدرآمد کا جائزہ لینا ہے۔بعد ازاں عدالتِ عظمیٰ نے خیبرپختونخوا حکومت کو سکولوں کی حالتِ زار بہتر بنانے کے لیے چھ ماہ کی مزید مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








