دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں امن دشمنوں کے عزائم ناکام بنانے کے لیے ناگزیر ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں امن دشمنوں کے عزائم ناکام بنانے کے لیے ناگزیر ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 14 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پشین اور قلعہ عبداللہ کے مختلف علاقوں میں بلوچستان پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں امن دشمنوں کے عزائم ناکام بنانے کے لیے ناگزیر ہیں ۔
ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پشین کے کلی سلطان، اژرم، دینار اور گیلو سمیت مختلف علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 6 دہشتگردوں کا خاتمہ اور 5 دہشتگردوں کی گرفتاری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر حکمت عملی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت ہے ۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگردوں سے اسلحہ اور دیگر متعلقہ مواد کی برآمدگی اہم پیش رفت ہے، جبکہ گرفتار عناصر سے تفتیش کے ذریعے دہشتگرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور مستقبل کے منصوبوں سے متعلق مزید اہم معلومات سامنے آنے کی توقع ہے ۔وزیراعلیٰ نے کارروائی میں حصہ لینے والے بلوچستان پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے ہمارے جوان جانفشانی اور عزم کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی سے ہی دہشتگرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ بلوچستان حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے اور انہیں درکار معاونت کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے جان و مال اور امن و سکون کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔







