قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس،تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور فراہمی کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس،تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور فراہمی کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور فراہمی کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو موثر ، مربوط اور نتیجہ خیز اقدامات کی ہدایت کی ہے۔قائمہ کمیٹی کا 26واں اجلاس قائم مقام چیئرمین انجم عقیل خان، رکن قومی اسمبلی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں ’’حیدرآباد انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز ترمیمی بل 2026‘‘ کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا گیا۔
کمیٹی نے منشیات کی روک تھام کے لیے انسداد منشیات فورس، پولیس، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی نظامت تعلیم کے درمیان موثر رابطہ کار نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی فراہمی کے ذرائع کی نشاندہی، مجرمانہ عناصر کی روک تھام اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جاسکے۔
کمیٹی نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور فراہمی کے رپورٹ شدہ واقعات کا جامع اور تصدیق شدہ ڈیٹا طلب کرتے ہوئے واقعات کی تعداد و نوعیت، متعلقہ اداروں کی جانب سے کی گئی کارروائی، بین الادارہ رابطہ کاری کے طریقہ کار اور سزا پانے والے افراد کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ محض کمیٹیاں قائم کرنے اور پالیسیاں بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ موثر عملدرآمد، باقاعدہ نگرانی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف عملی کارروائی ضروری ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات اور تمباکو مخالف کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔
کمیٹی نے ان ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور قانون نافذ کرنے والے متعلقہ انتظامی اداروں سے منسلک کرنے پر زور دیا۔اجلاس میں این سی ایل ایکس نرسنگ تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کرنے والے افراد کو بھی پیش کیا گیا۔ شرکاء نے کمیٹی کو اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بیرون ملک روزگار کے حصول کے لیے ویزا اسکریننگ سمیت دیگر ضروری مراحل مکمل کریں گے۔
کمیٹی نے قومی پیشہ ورانہ و تکنیکی تربیتی کمیشن کے تربیتی پروگراموں کو بین الاقوامی روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ اور نتیجہ خیز بنانے پر زور دیا۔ کمیٹی نے کہا کہ عالمی سطح پر روزگار کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں ہنرمند افرادی قوت کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیتی پروگراموں کو باقاعدگی سے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔کمیٹی نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو عالمی منڈی کی ضروریات سے مطابقت رکھنے والی مہارتیں، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قابلیت اور بیرون ملک باعزت روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔
وفاقی تعلیمی بورڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈسلیکسیا سے متاثرہ طلبہ کی سہولت کے لیے امتحانات کے دوران اضافی وقت اور سوالیہ پرچہ پڑھنے میں معاونت سمیت متعدد اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ کمیٹی نے تعلیمی اداروں میں باقاعدہ نفسیاتی معاونت اور تربیت یافتہ اصلاحی اساتذہ کی دستیابی پر زور دیا تاکہ سیکھنے میں مشکلات کی بروقت نشاندہی اور طلبہ کو مناسب معاونت فراہم کی جاسکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب اسمبلی ڈسلیکسیا سے متعلق قانون سازی بھی کرچکی ہے۔ بین الصوبائی تعلیمی بورڈز رابطہ کمیشن نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے ساتھ یہ معاملہ اٹھا کر ڈسلیکسیا کے شکار طلبہ کے لیے یکساں سہولیات اور معاونتی نظام اپنانے کی کوشش کی جائے گی۔کیمبرج امتحانات کے مبینہ پرچوں کے افشا سے متعلق کمیٹی کو بتایا گیا کہ قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ایسا کوئی ثبوت نہیں پایا جس سے یہ ثابت ہو کہ پرچوں کا افشا پاکستان سے ہوا۔
تاہم ایجنسی کو بیرون ملک موجود سرورز تک براہ راست رسائی حاصل نہ ہونے کے باعث مبینہ افشا کے اصل ماخذ، مقام اور طریقہ کار کی آزادانہ طور پر مکمل تحقیقات میں مشکلات کا سامنا ہے۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ گریڈ 14 کے اساتذہ سے متعلق تقریباً 200 سے 250 مقدمات زیر التوا اور کارروائی کے مراحل میں ہیں۔ کمیٹی نے ان مقدمات کو جلد نمٹانے اور ضروری کارروائی بروقت مکمل کرنے پر زور دیا، جس پر وزارت نے یقین دلایا کہ زیر التوا معاملات کے جلد از جلد حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔







