ٹوکیو۔31اکتوبر (اے پی پی):جاپان کے ایٹم بم حملوں میں زندہ بچ جانے والے شہریوں پر مشتمل نوبیل امن نعام یافتہ تنظیم نیہون ہیدانکیو نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے اعلان کو صریحاً ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دوران ایٹمی حملوں میں بچ جانے والے افراد جاپان میں ’ہیباکوشا‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں اور …
جوہری تجربات ناقابل قبول ہیں، ایٹمی بم حملوں میں بچ جانے والے جاپانیوں کی تنظیم کا امریکی صدر کو خط

مزید خبریں
ٹوکیو۔31اکتوبر (اے پی پی):جاپان کے ایٹم بم حملوں میں زندہ بچ جانے والے شہریوں پر مشتمل نوبیل امن نعام یافتہ تنظیم نیہون ہیدانکیو نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے اعلان کو صریحاً ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دوران ایٹمی حملوں میں بچ جانے والے افراد جاپان میں ’ہیباکوشا‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں اور جو کئی سال نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی تکلیف کا بھی شکار رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکا نے جاپان کے علاقوں ہیروشیما اور ناگاساکی پر دو جوہری بم پھینکے تھے جس کے نتیجے میں دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔
جمعرات کو امریکی صدر نے محکمہ جنگ پینٹاگون کو جوہری ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ کے احکامات جاری کیے ، جس کے ردعمل میں جاپان کی نوبیل امن نعام یافتہ تنظیم نیہون ہیدانکیو نے جاپان میں امریکی سفارتخانے کو احتجاجی خط بھیجا ہے۔تنظیم نے بھیجے گئے خط میں صدر ٹرمپ کے احکامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دیگر ممالک کی کوششوں کے مترادف ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر ایک پرامن دنیا کےلئے کوشاں ہیں۔ ناگاساکی کے میئر شیرو سوزوکی نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے احکامات نے دنیا بھر کے لوگوں کی کوششوں کو پامال کیا جنہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر دنیا کے وجود کا احساس دلانے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔
انہوں نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے جاپانی وزیراعظم کے ٹرمپ کو امن ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جوہری ہتھیاروں کا تجربہ فوری طور پر شروع کیا جاتا ہے تو کیا (صدر ڈونلڈ ٹرمپ) امن کے نوبیل انعام کے لیے نااہل نہیں ہو جائیں گے ۔ نیہون ہیدانکیو تنظیم کو 2024 میں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔ اس موقع پر تنظیم کے ارکان نے تمام ممالک سے جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ دو دیگر گروپس نے بھی احتجاجی بیان جاری کیا ہے جس میں کسی قسم کے ایٹمی تجربات نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ہیروشیما کانگرس اور ہیروشیما پریفیکچر فیڈریشن نے بھی مشترکہ خط جاپان میں امریکی سفارتخانے کو بھجوایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی غیر انسانی نوعیت ہیروشیما اور ناگاساکی میں ہونے والی تباہی سے واضح ہے۔ امریکا نے 6 اگست 1945 کو ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا تھا اور پھر دوسرا بم ناگاساکی پر گرایا۔ جس کے نتیجے میں تقریباً 140,000 افراد ہیروشیما میں اور 74,000 کے قریب ناگاساکی میں ہلاک ہوئے جن میں سے متعدد کی موت تابکاری کے اثرات سے ہوئی۔








