حساس مواد کا تحفظ، صحافیوں کے وائٹ ہاؤس کے پریس آفس تک بلااجازت داخلے پر پابندی

واشنگٹن ۔1نومبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے صحافیوں پر وائٹ ہاؤس کے پریس آفس تک اپائنٹمنٹ کے بغیر رسائی پر پابندی عائد کر دی ہے۔اردو نیوز کے مطابق اب صحافیوں کو پیشگی اجازت کے بغیر پریس آفس کے مرکزی حصے جسے اپر پریس کہا جاتا ہے جہاں پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کا دفتر ہےمیں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس پابندی کی وجہ حساس مواد کے تحفظ …

واشنگٹن ۔1نومبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے صحافیوں پر وائٹ ہاؤس کے پریس آفس تک اپائنٹمنٹ کے بغیر رسائی پر پابندی عائد کر دی ہے۔اردو نیوز کے مطابق اب صحافیوں کو پیشگی اجازت کے بغیر پریس آفس کے مرکزی حصے جسے اپر پریس کہا جاتا ہے جہاں پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کا دفتر ہےمیں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس پابندی کی وجہ حساس مواد کے تحفظ کی ضرورت بتائی گئی ہے۔وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کابینہ کے ارکان کو اچانک گھیر لیتے تھے اور خفیہ طور پر وڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کر رہے تھے۔

سٹیون چیونگ نے بعد میں ایکس پر کہا کہ کچھ صحافی بلا اجازت ہمارے دفاتر کی خفیہ وڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کرتے اور حساس معلومات کی تصاویر لیتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کے سیکرٹری اکثر ہمارے دفتر میں نجی ملاقاتوں کے لیے آتے ہیں، لیکن باہر صحافی ان کا انتظار کرتے ہیں اور انہیں گھیر لیتے ہیں۔سٹیون چیونگ نے صحافیوں پر بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی نجی ملاقاتوں کی جاسوسی کا بھی الزام لگایا۔تاہم وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر نے اپنے اس دعوے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔وائٹ ہاؤس نیشنل سکیورٹی کونسل کے ایک میمو میں کہا گیا ہے کہ یہ ہدایت نامہ پریس ہولڈرز کو بغیر اپائنٹمنٹ اپر پریس جو اوول آفس کے قریب واقع ہے، تک رسائی سے روکنا ہے۔

میمو جو پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ اور کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ کو بھیجا گیا ہے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصداپر پریس میں حساس مواد کو بلااجازت افشا ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔یہ پالیسی اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ صحافیوں پر مزید پابندیاں عائد کر رہی ہے۔ ان پینٹاگون کے نئے ضوابط بھی شامل ہیں جن پر اے ایف پی سمیت بڑے اداروں نے رواں ماہ کے آغاز میں دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اب تک وائٹ ہاؤس کے رپورٹرز اس علاقے میں آزادانہ طور پر جا سکتے تھے اور اکثر اوقات پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ یا سینئر پریس افسران سے بات کرنے، معلومات حاصل کرنے یا خبروں کی تصدیق کے لیے وہاں جاتے تھے۔

میمو کے مطابق میڈیا اب بھی لوئر پریس کے حصے تک رسائی رکھتا ہے جو وائٹ ہاؤس بریفنگ روم کے ساتھ واقع ہے اور جہاں نسبتاً جونیئر پریس افسران کام کرتے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹ صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ نے بھی اپر پریس تک رسائی محدود کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بعد میں یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔