واشنگٹن ۔3نومبر (اے پی پی):ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی مجموعی دولت میں 24 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جب کمپنی کے حصص اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ یہ اضافہ توقعات سے کہیں بہتر مالی نتائج اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات و خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ہوا۔العربیہ اردو کے مطابق ایمازون کے حصص کی قیمت 11.5 فیصد اضافے کے ساتھ 248.6 …
ایمازون کے بانی کی دولت میں 24 ارب ڈالر کا اضافہ، کمپنی کے حصص تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

مزید خبریں
واشنگٹن ۔3نومبر (اے پی پی):ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی مجموعی دولت میں 24 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جب کمپنی کے حصص اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ یہ اضافہ توقعات سے کہیں بہتر مالی نتائج اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات و خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ہوا۔العربیہ اردو کے مطابق ایمازون کے حصص کی قیمت 11.5 فیصد اضافے کے ساتھ 248.6 ڈالر تک جا پہنچی، جو اپریل کے بعد روزانہ کے سودوں میں سب سے بڑی نمایاں اضافہ میں سے ایک ہے، اپریل میں بھی حصص کی قیمت 12 فیصد بڑھی تھی جبکہ اس سے قبل جمعرات کو اس میں 3.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔کمپنی نے 180.2 ارب ڈالر کی آمدنی اور فی شیئر 1.95 ڈالر منافع کا اعلان کیا جو ماہرین کی توقعات سے زیادہ تھا۔ تجزیہ کاروں نے آمدنی 177.9 ارب ڈالر اور فی شیئر منافع 1.57 ڈالر رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔
یہ تفصیلات فیکٹ سیٹ کے اعداد و شمار پر مبنی فوربز کے حوالے سے العربیہ بزنس نے شائع کیں۔ایمازون کے سی ای او اینڈی جیسی نے شاندار نتائج کی وجہ ایمازون ویب سروسز میں 20 فیصد سالانہ ترقی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب کو قرار دیا۔ کمپنی نے رواں ہفتے 11 ارب ڈالر مالیت کا نیا ڈیٹا سینٹر شروع کیا ہے جو کمپنی Anthropic کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی معاونت کرے گا۔فوربز کے مطابق جیف بیزوس، جو ایمازون کے 8 فیصد حصص کے مالک ہیں، کی مجموعی دولت بڑھ کر 259.4 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جس کے ساتھ وہ دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص برقرار رہے۔
یہ اضافہ جمعرات کو 6.6 ارب ڈالر کی کمی کے بعد سامنے آیا جو اس وقت حصص کی گراوٹ کے باعث ہوئی تھی۔ایمازون کے حصص کی قیمت اپریل میں 161.38 ڈالر کی کم ترین سطح سے اب تک 53 فیصد بڑھ چکی ہے، جبکہ رواں سال کے آغاز سے اب تک اس میں 12 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایمازون ٹیکنالوجی کی دیگر بڑی کمپنیوں جیسے این ویڈیا، گوگل اور مائیکروسافٹ کی طرح مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے تاکہ عالمی سطح پر بڑھتی طلب پوری کی جا سکے۔اسی سلسلے میں کمپنی نے رواں ہفتے انتظامی عملے کے 14 ہزار ارکان کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ مالی بحران یا مصنوعی ذہانت سے متعلق وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ آپریشنز کو زیادہ مؤثر اور لچک دار بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔تجزیہ کار ادارے Pivotal Research نے ایمازون کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے بنیادی کاروبار کے گرد ایک مضبوط حفاظتی ڈھانچہ موجود ہے اور اس کے پاس قدرتی ترقی کے کئی مواقع ہیں جنہیں اس کے کلاؤڈ بزنس کے بلند منافع سہارا دے رہے ہیں۔








