بلیو اکانومی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے،حکومت پالیسی کے تسلسل، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار بحری ترقی کے لیے پرعزم ہے ،وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بلیو اکانومی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے،حکومت پالیسی کے تسلسل، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار بحری ترقی کے لیے پرعزم ہے تاکہ اس شعبے کو سال 2047 تک 100 ارب ڈالر کی معیشت میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے یہ بات پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بلیو اکانومی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے،حکومت پالیسی کے تسلسل، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار بحری ترقی کے لیے پرعزم ہے تاکہ اس شعبے کو سال 2047 تک 100 ارب ڈالر کی معیشت میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے یہ بات پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصی ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ تقریب کراچی ایکسپو سینٹر میں پاکستان نیوی اور وزارتِ بحری امور کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔

وزیرِ خزانہ نے پاکستان نیوی، وزارتِ بحری امور اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کو عالمی معیار کی کانفرنس منعقد کرنے پر سراہا اور کہا کہ سمندری معیشت پاکستان کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ انہوں نے شرکا ، ماہرین اور پینلسٹ حضرات کا خیر مقدم کیا۔اپنی تقریر میں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں میں پاکستان نے معیشت کے استحکام کی سمت نمایاں پیش رفت کی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، افراطِ زر سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے اور روپے کی قدر مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں کمی اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی معیشت کو مستحکم قرار دینا بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ سٹاف لیول معاہدہ حکومت کی پالیسیوں پر عالمی اداروں کے اعتماد کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اب ایک ایسے مرحلے پر ہے جہاں روایتی اتحادی ممالک چین، امریکا ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو تجارتی و سرمایہ کاری کے شعبے میں عملی تعاون میں بدلا جا سکتا ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ فی الحال سمندری معیشت کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ محض 0.4 تا 0.5 فیصد یا تقریباً ایک ارب ڈالر ہےمگر اس میں بے پناہ امکانات پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک اسے 100 ارب ڈالر کے شعبے میں تبدیل کرنے کا ہدف حقیقت پسندانہ اور قابلِ حصول ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے میں ویلیو ایڈڈ پراسیسنگ، کولڈ چین انفراسٹرکچر اور عالمی معیار کی حفظانِ صحت کی شرائط کو فروغ دے رہی ہے تاکہ سمندری خوراک کی برآمدات موجودہ 50 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر اگلے چند برسوں میں 2 ارب ڈالر تک پہنچائی جا سکیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنائے گی تاکہ طویل مدتی منصوبے تسلسل سے آگے بڑھیں۔وزیرِ خزانہ نے کراچی، قاسم اور گوادر بندرگاہوں کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن، ڈیجیٹلائزیشن، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے جیسے ٹائیڈل اور آف شور ونڈ انرجی، اور’’بلو بانڈز‘‘کے اجرا جیسے جدید مالیاتی ذرائع پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ میری ٹائم بایوٹیکنالوجی اور علاقائی تعاون پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ بلیو اکانومی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور معدنیات جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کی طرح پاکستان کی ترقی کا نیا محرک بن سکتی ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے منتظمین اور شرکا کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس سے سامنے آنے والی تجاویز پاکستان کی بحری اور اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوں گی۔