بنگلہ دیش،عبوری حکومت نے موسیقی کے اساتذہ کی بھرتی کا منصوبہ منسوخ کردیا

ڈھاکہ ۔4نومبر (اے پی پی):بنگلہ دیش نے پرائمری سکولوں کے لیے موسیقی کے اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش کے ایک سرکاری اہلکار نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا کہ پرائمری سکولوں کے لیے موسیقی کے اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ ختم کر دیا ہے ،اس اقدام کو مسلم اکثریتی ملک میں …

ڈھاکہ ۔4نومبر (اے پی پی):بنگلہ دیش نے پرائمری سکولوں کے لیے موسیقی کے اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش کے ایک سرکاری اہلکار نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا کہ پرائمری سکولوں کے لیے موسیقی کے اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ ختم کر دیا ہے ،اس اقدام کو مسلم اکثریتی ملک میں اسلام پسند گروپوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔رواں سال اگست میں، پرائمری تعلیم کی نگرانی کرنے والی وزارت نے موسیقی کے اساتذہ کی بھرتی کا اعلان کرتے ہوئے ایک سرکلر جاری کیا تھا جسے عبوری حکومت نے اب تبدیل کر دیا ہے۔

وزارت کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت نے فیصلہ ختم کر دیا ہے اور حکم جاری کر دیا ہے۔موسیقی اور جسمانی تعلیم (فزیکل ایجوکیشن )دونوں پوسٹوں کو اب ختم کر دیا گیا ہے ۔بنگلہ دیشی حکومت نے اس فیصلے پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔یہ تبدیلی بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلام پسند سیاسی جماعت، جماعت اسلامی، اور دیگر اسلامی تنظیموں کے شدید احتجاج کے بعد ہوئی ہے جو سکول کے نصاب میں موسیقی کی شمولیت کی مخالفت کرتی ہیں۔

اے ایف ایم عبوری کابینہ میں مذہبی امور کا قلمدان سنبھالنے والے خالد حسین نے گزشتہ ہفتے وزارت تعلیم کے حکام سے اس معاملے پر بات چیت کی تھی۔انہوں نے میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو عوامی جذبات کے خلاف ہو۔اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد سے 170 ملین آبادی پر مشتمل جنوبی ایشیائی ملک سیاسی بحران کا شکار ہے۔