اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں تقریباً 380 ملین افراد غربت کا شکار ہیں اور خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، بڑی تعداد میں بچے غذائی قلت اور تعلیم سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔وہ اسلام آباد میں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کی 28ویں سالانہ پائیدار …
مستقبل کا حصول صرف پائیدار ترقی کے ذریعے ممکن ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں تقریباً 380 ملین افراد غربت کا شکار ہیں اور خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، بڑی تعداد میں بچے غذائی قلت اور تعلیم سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔وہ اسلام آباد میں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کی 28ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس کا موضوع ”ابھر تی دنیا میں پائیدار ترقی کے غیر مرتب و مرتب پیمانے“ ہے۔چار روزہ کانفرنس میں 45 سے زائد اجلاس ہوں گے جن میں ارکانِ پارلیمان، ماہرینِ معیشت، عالمی ماہرینِ ماحولیات، اور سفارت کار شرکت کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان رواں سال شدید سیلابی صورتحال سے دوچار ہوا، جس میں موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بعض اوقات آبی جارحیت کے اثرات بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ نارووال میں آنے والا سیلاب اس کی ایک واضح مثال ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ یو این کی رپورٹ کے مطابق پائیدار ترقی کے صرف 17 فیصد اہداف درست سمت میں گامزن ہیں۔ اس تناظر میں کلائمیٹ فنانس کی منصفانہ تقسیم نہایت ضروری ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک اس حوالے سے اپنے اہداف حاصل کر سکیں۔
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی نے کہا کہ وزیرِاعظم نے موسمیاتی مسائل کو معاشی مسائل قرار دیا ہے اور حکومت ’’اُڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت پانی، خوراک، تعلیم، اور روزگار جیسے چیلنجز سے نمٹنے پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں۔ حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے ’’ایجوکیشن ایمرجنسی‘‘کے تحت جامع اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہر بچے کو تعلیم کا حق فراہم کیا جا سکے ۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت پانچ ترجیحات( 5 ایز )پرتوجہ مرکوز کر رہی ہے جن میں برآمدات ، انرجی، ماحول ، مساوات اور تعلیم شامل ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔اگر ہم نے آبادی میں اضافے پر قابو نہ پایا تو وسائل پر دباؤ بڑھتا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی اور اختراع کے فروغ سے اپنی معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں کامیابی ممکن ہو۔








