دی ہیگ ۔4نومبر (اے پی پی):عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر آفس نے پیر کو خبردار کیا کہ سوڈان کے شہر الفاشر میں کیے گئے مظالم جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔ منگل کو آئی سی سی کے پراسیکیوٹر آفس (او پی آئی سی سی ) سے جاری بیان کے مطابق 18 ماہ کے محاصرے، گولہ باری اور بھوک کے بعد نیم …
الفاشر میں کیے گئے مظالم جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں، عالمی فوجداری عدالت کا انتباہ جاری

مزید خبریں
دی ہیگ ۔4نومبر (اے پی پی):عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر آفس نے پیر کو خبردار کیا کہ سوڈان کے شہر الفاشر میں کیے گئے مظالم جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔ منگل کو آئی سی سی کے پراسیکیوٹر آفس (او پی آئی سی سی ) سے جاری بیان کے مطابق 18 ماہ کے محاصرے، گولہ باری اور بھوک کے بعد نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے 26 اکتوبر کو شہر پر قبضہ کر لیا تھا، جو دارفور کے مغربی علاقے میں فوج کا آخری مضبوط گڑھ تھا۔آئی سی سی کے پراسیکیوٹر آفس نے الفاشر سے موصول ہونے والی اجتماعی قتل، جنسی زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کی اطلاعات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا۔
دفتر نے بیان میں کہا کہ یہ مظالم تشدد کے اس وسیع سلسلے کا حصہ ہیں جو اپریل 2023 سے پورے دارفور علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ عمل’ روم سٹیٹیوٹ ‘کے تحت جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم تصور کیے جائیں گے۔اقوام متحدہ کے مطابق الفاشر سے اب تک 65 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں، جن میں تقریباً 5 ہزار افراد قریب واقع قصبے تاویلا پہنچے ہیں، تاہم اب بھی ہزاروں لوگ وہاں محصور ہیں۔
آر ایس ایف کے قبضے سے قبل شہر کی آبادی تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار نفوس پر مشتمل تھی، شہر پر قبضے کے بعد قتل و غارت، جنسی تشدد، لوٹ مار، امدادی کارکنوں پر حملے اور اغوا کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جب کہ علاقے میں رابطے اب بھی منقطع ہیں۔آر ایس ایف کی جڑیں جنجوید ملیشیا سے ملتی ہیں، جو زیادہ تر عرب جنگجوؤں پر مشتمل تھی اور جس پر 2 دہائیاں قبل دارفور میں نسل کشی کے الزامات لگے تھے۔
الفاشر کے سقوط کے بعد سامنے آنے والی رپورٹس نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ ماضی جیسے مظالم دوبارہ دہرائے جا سکتے ہیں۔گزشتہ ماہ آئی سی سی نے جنجوید کے ایک بدنام سربراہ کو دارفور میں 20 سال قبل کیے گئے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر سزا سنائی تھی۔یاد رہے کہ روم سٹیٹیوٹ ،بین الاقوامی فوجداری عدالت کا بانی معاہدہ ہے جو 1998 میں اپنایا گیا، یہ 2002 میں نافذ ہوا اور عدالت کا ڈھانچہ، دائرہ اختیار، اور گورننگ فریم ورک قائم کرتا ہے۔ قانون آئی سی سی کو انتہائی سنگین بین الاقوامی جرائم جیسا کہ نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم، اور جارحیت کا اختیار دیتا ہے۔








