ڈاکٹر غلام قادر وانی صرف سیاسی رہنما نہیں بلکہ وہ ایک فکری، نظریاتی اور تنظیمی شخصیت تھے، غلام محمد صفی

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر غلام قادر وانی صرف سیاسی رہنما نہیں تھے، بلکہ وہ ایک فکری، نظریاتی اور تنظیمی شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ کشمیر کی آزادی، اسلامی بیداری اور نوجوان نسل کی فکری تربیت کے لیے وقف کر دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے مرکزی …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر غلام قادر وانی صرف سیاسی رہنما نہیں تھے، بلکہ وہ ایک فکری، نظریاتی اور تنظیمی شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ کشمیر کی آزادی، اسلامی بیداری اور نوجوان نسل کی فکری تربیت کے لیے وقف کر دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے مرکزی دفتر میں تحریک آزادی کشمیر کے عظیم مجاہد، فکری رہنما اور شہید قائد ڈاکٹر غلام قادر وانی کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔

شرکائے مجلس نے ڈاکٹر غلام قادر وانی کو تحریک آزادی کے فکری معمار، نظریاتی ستون اور استقامت کی علامت قرار دیتے ہوئے ان کی قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر ایک پر وقار دعائیہ و خراج عقیدت کی مجلس منعقد کی گئی جس کی صدارت کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے کی۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر غلام قادر وانی صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے، بلکہ وہ ایک فکری، نظریاتی اور تنظیمی شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ کشمیر کی آزادی، اسلامی بیداری اور نوجوان نسل کی فکری تربیت کے لیے وقف کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر وانی نے نوجوانوں میں تحریک اسلامی اور حریت فکر کی وہ شمع روشن کی جو آج بھی جل رہی ہے۔

وہ جمعیت طلبہ جموں و کشمیر کے فعال و جری ناظم اعلیٰ رہے، بعد ازاں جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر میں شمولیت اختیار کی، اور پھر اسلامک سٹوڈنٹس لیگ کے چیئرمین کی حیثیت سے کشمیر کے نوجوانوں کو فکری، تحریکی اور تنظیمی سطح پر ایک واضح سمت عطا کی۔غلام محمد صفی نے مزید کہا کہ ڈاکٹر غلام قادر وانی کی جدوجہد نے تحریک آزادی کو صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری و تہذیبی بنیادوں پر استوار کیا۔

وہ اس نظریے کے علمبردار تھے کہ کشمیر کی تحریک دراصل حق و باطل کے درمیان ایک فکری، دینی اور تہذیبی معرکہ ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر وانی جیسے رہنما تاریخ کے وہ روشن باب ہیں جو مٹائے نہیں جا سکتے، کیونکہ ان کا وژن، کردار اور قربانیاں آج بھی تحریک آزادی کشمیر کی فکری بنیادوں کو مضبوط کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام اور بالخصوص نوجوان نسل کا یہ عہد ہے کہ وہ اپنے شہید رہنمائوں کے مشن کو ہر حال میں جاری رکھیں گے اور ان کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔مجلس کے اختتام پر شہید رہنما کے لیے فاتحہ خوانی اور بلند درجات کے لئے دعا کی گئی۔ ڈاکٹر غلام قادر وانی کا مشن حق و صداقت پر مبنی ایک منظم، فکری اور پرامن جدوجہد ہمیشہ کشمیری قوم کی فکری رہنمائی کرتا رہے گا۔

اجلاس میں سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی ،جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد ،میر طاہر مسعود ،داود خان،شیخ عبدالمتین ،محمد حسین خطیب ، حاجی محمد سلطان ،راجہ شاہین،زاہد صفی،اعجاز رحمانی ،جاوید جہانگیر ، امتیاز وانی ، عدیل مشتاق ، شیخ عبد الماجد ،نزید احمد کرنائی، سید گلشن ،منظور احمد ڈار،منظور احمد شاہ ، زاہد مجتبیٰ اور سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ و دیگر نے شرکت کی۔