اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آ فریدی نے کہا ہے کہ بینچ اور بار انصاف کے ایک ہی نظام کے دو بنیادی ستون ہیں اور عدالتی نظام کی موثر و بروقت عمل داری کے لیے ان کے درمیان مستقل رابطہ ناگزیر ہے، عدلیہ اور وکلاء کے مابین تعاون سے ہی انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید شفاف، منصفانہ اور عوام دوست بنایا جا سکتا …
بینچ اور بار انصاف کے ایک ہی نظام کے دو بنیادی ستون ، عدالتی نظام کی موثر و بروقت عمل داری کیلئے ان کے درمیان مستقل رابطہ ناگزیر ہے، چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آ فریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آ فریدی نے کہا ہے کہ بینچ اور بار انصاف کے ایک ہی نظام کے دو بنیادی ستون ہیں اور عدالتی نظام کی موثر و بروقت عمل داری کے لیے ان کے درمیان مستقل رابطہ ناگزیر ہے، عدلیہ اور وکلاء کے مابین تعاون سے ہی انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید شفاف، منصفانہ اور عوام دوست بنایا جا سکتا ہے۔یہ بات انہوں نے منگل کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کی سبکدوش اور نو منتخب کابینہ سے ملاقات کے دوران کہی۔
ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق سبکدوش کابینہ کی قیادت رئوف عطا نے کی جبکہ نو منتخب کابینہ کی سربراہی ہارون الرشید نے کی۔چیف جسٹس آف پاکستان نے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سبکدوش کابینہ کے تعاون اور خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جاری ادارہ جاتی اصلاحات کا مقصد شفافیت، عوامی رسائی اور کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ پبلک فسیلیٹیشن سینٹرز مرکزی عدالت (پرنسپل سیٹ) اور تمام برانچ رجسٹریز میں قائم کیے گئے ہیں، جہاں وکلاء اور سائلین کو ایک ہی مقام سے معلومات اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نظام مسلسل بہتری کے عمل میں ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی تعمیری تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ مقدمات کی سماعت واضح پالیسی کے مطابق مقرر کی جا رہی ہے جو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے جبکہ جلد سماعت کی درخواستوں پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے امور کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے تاکہ اخراجات میں کمی، شفافیت میں اضافہ اور وکلاء و سائلین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ چیف جسٹس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سپریم کورٹ آئینی حدود میں رہتے ہوئے ہائی کورٹس کی انتظامی و عدالتی خودمختاری کا مکمل احترام کرتی ہے۔
چیف جسٹس نے یقین دلایا کہ سپریم کورٹ بار کے ساتھ تعمیری اور کھلے رابطے کو برقرار رکھا جائے گا اور وکلاء برادری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔سبکدوش کابینہ نے چیف جسٹس کے تعاون اور رہنمائی پر اظہار تشکر کیا اور اس بات کو سراہا کہ انہوں نے ملک کے مختلف اضلاع میں وکلاء سے ملاقاتوں کے ذریعے بار کے مسائل کو قریب سے سمجھا۔نو منتخب کابینہ نے یقین دلایا کہ وہ عدلیہ کے ساتھ مل کر انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے بھرپور تعاون کرے گی۔ملاقات کے اختتام پر چیف جسٹس آف پاکستان نے سبکدوش کابینہ کے ارکان کو شیلڈز پیش کیں جبکہ سبکدوش کابینہ نے بھی چیف جسٹس کو یادگاری مومنٹو پیش کیا۔








