تعلیم محض علم کا حصول نہیں بلکہ کردار سازی، مساوات اور سماجی ذمہ داری ہے، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی کا بیکن ہائوس سکول سسٹم کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے تعلیم کو قومی ترقی کا محرک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قوت آج پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور بھرپور اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے منگل کو جاری بیان کے مطابق یہ بات انہوں نے بیکن ہائوس سکول سسٹم کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر "تعلیم پر نئے سرے سے …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے تعلیم کو قومی ترقی کا محرک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قوت آج پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور بھرپور اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے منگل کو جاری بیان کے مطابق یہ بات انہوں نے بیکن ہائوس سکول سسٹم کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر "تعلیم پر نئے سرے سے غور” کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہاکہ جو کام 1975ء میں محض 19 طلبہ کے ساتھ شروع ہوا تھا، اب وہ چھ ممالک میں پھیلے تقریباً 3 لاکھ 97 ہزار طلبہ کے نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے اسے پاکستان کی تعلیمی اور ترقیاتی برتری کی متاثر کن داستان قرار دیا۔ انہوں نے بیکن ہائوس کی بانی اور چیئرپرسن نسرین محمود قصوری کی دوراندیش قیادت اور پاکستان کے تعلیمی منظر نامے میں انقلابی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔

قائم مقام صدر نے کہا کہ انہوں نے نہ صرف تعلیمی نظام میں انقلاب برپا کیا بلکہ خواتین کے لیے تعلیم اور سماجی ترقی میں قائدانہ کردار کا راستہ بھی ہموار کیا۔تعلیم پر نئے سرے سے غور کے مرکزی موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے قائم مقام صدر نے کہا کہ آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی سے چلنے والی دنیا میں یہ موضوع نہایت متعلقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل لرننگ اور عالمی تبدیلیوں نے تعلیمی مقاصد کو نئی شکل دے دی ہے جس نے تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر معنی خیز تبدیلی لانے کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے بیکن ہائوس کی جدت، ڈیجیٹل ٹولز، پراجیکٹ بیسڈ لرننگ اور ابتدائی عمر میں ہی کاروباری مہارت کو شامل کرنے کی پالیسی کو پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت قرار دیا۔ انہوں نے سپارک ٹینک انکیوبیٹر، گوگل رفرنسڈ سکول کا درجہ اور خصوصی ضروریات والے بچوں کے لیے شمولیت پر مبنی تعلیم کے ادارے کے عزم جیسی پہلوئوں کی تعریف کی۔انہوں نے بیکن ہائوس نیشنل یونیورسٹی، کنکورڈیا کالجز، ہوم برج اور دی ایجوکیٹرز جیسے منصوبوں کی بھی تعریف کی جنہوں نے ملک بھر میں لاکھوں خاندانوں کو معیاری تعلیمی مواقع فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محمود علی قصوری ویلفیئر ٹرسٹ اور لائٹ ہائوس اورفینج اس بات کی مثال ہیں کہ تعلیم محض علم کا حصول نہیں بلکہ کردار سازی، مساوات اور سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ اساتذہ کو قوم کے حقیقی معمار قرار دیتے ہوئے قائم مقام نے ان کی خدمات کو سراہا اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ علم کی تلاش جاری رکھیں اور سوالات کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کا تعلیم پر اعتماد پاکستان کے مستقبل میں سب سے مضبوط سرمایہ کاری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے جو قومی ترقی، جمہوری استحکام اور محفوظ مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے سائنسی، تکنیکی اور تخلیقی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے اور ملک کے ہر علاقے میں بچوں کے لیے معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے تاریخی الفاظ کو دہراتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ایک قوم تاریکی میں بھٹکتی ہے جبکہ تعلیم روشنی اور بقاء کی ضمانت ہے۔

بیکن ہائوس کے وژن 2050 کو امید اور ترقی کی روشنی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب پرائیویٹ سیکٹر خدمت اور سماجی ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ کام کرتا ہے تو وہ قومی ترقی کا ایک اہم شراکت دار بن جاتا ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے بیکن ہائوس کو اس کی گولڈن جوبلی پر مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ اگلے پچاس سال تعلیم میں مسلسل جدت، برتری اور مساوات لے کر آئیں۔