پاکستان کو نئے عالمی ترقیاتی نظام کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا، احسن اقبال

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):ترقی یافتہ ممالک کی مالی معاونت کی عدم فراہمی وترقی پذیر ممالک سے ماحولیات میں مزید اقدامات کا مطالبہ دوہرے معیار کے مترادف ہے،پاکستان میں ماحولیاتی تباہ کاریوں کے ذمہ داری ترقی یافتہ ممالک ہیں، پاکستان کو بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی کے ماحول میں جدت، شراکت اور خودداری کو بنیاد بنا کر ایک نئے عالمی ترقیاتی نظام کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا،جنوبی …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):ترقی یافتہ ممالک کی مالی معاونت کی عدم فراہمی وترقی پذیر ممالک سے ماحولیات میں مزید اقدامات کا مطالبہ دوہرے معیار کے مترادف ہے،پاکستان میں ماحولیاتی تباہ کاریوں کے ذمہ داری ترقی یافتہ ممالک ہیں، پاکستان کو بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی کے ماحول میں جدت، شراکت اور خودداری کو بنیاد بنا کر ایک نئے عالمی ترقیاتی نظام کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا،جنوبی ایشیائی خطے میں سیاسی عدم استحکام اور تنازعات کے سبب کثیر الجہتی نظام میں تعطل پیدا ہو چکا ہے،مخصوص ذہنیت کا فروغ خطے میں عدم برداشت کی فضاءپیدا کر رہا ہے،تحقیق کے بغیر پالیسی سازی مفید نہیں ہو سکتی،خطہ ماحولیاتی آفات کا شکار ہونے کے باوجود وسائل سے مالامال ہے،ماحولیاتی خطرات سے تحفظ کیلئے علاقائی تعلیم و تربیت ناگزیر ہے۔

اس امر کا اظہار پالیسی ادرہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام چار روزہ سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور ترقی احسن اقبال ،وزیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، بنگلہ دیش کی مشیر ماحولیات سیدہ رضوانہ حسن ، پاکستان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے محمد یحییٰ ،ایسڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری اور سابق سفیر و ایس ڈی پی آئی کے بورڈز آف گورنرز کے چیئر مین شفقت کاکا خیل نے بھی اظہار خیال کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے ترقی یافتہ ممالک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امیر ممالک ایک طرف تو ترقی پذیرملکوں سے ”مزید سبز“ ہونے کا تقاضا کرتے ہیں تو دوسری طرف مالی معاونت روک کردوہرے معیارکامظاہرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک کاربن کے عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھنے کے باوجود سب سے زیادہ ماحولیاتی تباہ کاریوں کا شکارہیں۔مصدق ملک نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کا ماحولیاتی اخراج نہ ہونے کے برابر ہے مگر سیلاب، خشک سالی اور قرضوں کے جال نے اسے مسلسل شکنجے میں لیا ہوا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا کے چالیس فیصد اخراج کے ذمہ دار صرف دو ممالک ہیں جبکہ دس ممالک کا اخراج پچھتر فیصد ہے لیکن اس کے باوجودسبز مالیاتی وسائل کا پچاسی فیصد بھی انہی کو ملتا ہے۔بنگلہ دیش کی وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کی مشیر سیدہ رضوانہ حسن نے بھی انہی خدشات کا اظہا ر کیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں سیاسی بے یقینی اور خطے کے اندر تنازعات کے باعث کثیرالجہتی نظام کمزور پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مذید کہاکہ بڑھتی ہوئی قدرتی آفات، مٹی کی زرخیزی میں کمی اور بالائی و زیریں دریائی خطوں کے درمیان تنازعات کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔اپنے استقبالیہ خطاب میں ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ یہ کانفرنس وہ علمی فورم ہے جہاں تحقیق پالیسی سازی سے جڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کا موضوع ہمارے خطے کے حقیقی احساسات کی ترجمانی کرتا ہے کیونکہ آج بے یقینی ہر طرف عام ہے۔ایس ڈی پی آئی کے بورڈ آف گورنرزکے چیئرمین ایمبیسیڈر (ر)شفقت کاکاخیل نے کہا کہ امن، خوشحالی اور انسانی فلاح کو درپیش خطرات پیچیدہ ہو چکے ہیں جبکہ انہیں حل کرنے کےلئے عالمی عزم روز بروز کمزور ہورہا ہے۔پاکستان میں خصوصی نمائندہ برائے اقوامِ متحدہ محمد یحییٰ نے کہا کہ چھوٹے منصوبوں کا دور گزر چکا ہے، اقوامِ متحدہ حکومتوں کی تکنیکی معاونت تو کر سکتی ہے مگر ان کی جگہ نہیں لے سکتی۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نصیر محمود نے مشترکہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کےلئے بڑے اور جرات مندانہ علاقائی پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد ازاں دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی کے ماحول میں جدت، شراکت اور خودداری کو بنیاد بنا کر ایک نئے عالمی ترقیاتی نظام کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا.

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے غربت کے خاتمے اور 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف کے لئے برآمدات اور ویلیو ایڈیشن کو واحد راستہ قرار دیا۔پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کی 28ویں سالانہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ڈنمارک اور جرمنی کے سفارتکاروں نے پاکستان کو کلائمٹ سمارٹ نمو اور پائیداری کو معاشی فیصلوں کی بنیاد بنانے پر زور دیتے ہوئے موسمیاتی لچک، قابلِ تجدید توانائی، ٹیکنالوجی شراکت داری، گرین فنانس اور نجی شعبے کی شمولیت کو فوری ترجیح قرار دیا جبکہ ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے واضح کیا کہ موسمیاتی لچک، پائیداری اور اسٹیک ہولڈرز کے مشترکہ تعاون کے بغیر پاکستان اپنی سماجی و معاشی بقا محفوظ نہیں رکھ سکتا۔

ڈنمارک کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن پیٹر ایمل نیلسن نے کہا کہ موسمیاتی بحران اب محض خطرہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے جس سے نمٹنے کے لئے فوری اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ جرمن سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن آرنو کرکھوف نے کہا کہ پاکستان کو صرف موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے بجائے پائیدار، ماحول دوست اور دیرپا معاشی نمو کی سمت اختیار کرنا ہوگی۔نیشنل بک فاونڈیشن کے ڈاکٹر کامران جہانگیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہابلکہ قومی بقا کا معاملہ بن چکا، اس لئے ملک کو علم پر مبنی حکمرانی اور کلائمٹ سمارٹ پالیسیوں کی طرف فوری قدم اٹھانا ہوں گے۔

تقریب کے اختتام پر مختلف زمروں میں سسٹینبلیٹی ایوارڈز دیئے گئے جن میں ایگرو ٹیک و فوڈ سیکیورٹی، واٹر کنزرویشن وسٹیورڈشپ، سرکلر اکانومی و پروڈکشن انوویشن، رینیوایبل انرجی و لو کاربن ٹرانزیشنز، سمارٹ موبیلٹی و گرین انفراسٹرکچر، ESG انٹیگریشن و گرین فنانس، کاربن مارکیٹس و کلائمٹ فنانس، جینڈر ایکویٹی و سوشل امپیکٹ، سسٹینبلیٹی ایجوکیشن و کمیونٹی لیڈ ایڈاپٹیشن اور ڈیزاسٹر ریزیلینس و کلائمٹ رسک مینجمنٹ شامل تھے۔