2026ء میں اجناس کی قیمتوں میں بالترتیب 7 فیصد کمی کا امکان ہے،عالمی بینک

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ 2025ء اور 2026ء میں اجناس کی قیمتوں میں بالترتیب 7 فیصد کمی کا امکان ہے، 2025ء میں سونا 42 فیصد مہنگا ہونے اور 2026ء میں مزید 5 فیصد اضافے کے ساتھ اس کی قیمت 2015–2019ء کی اوسط سے تقریباً دوگنی ہو جائے گی۔ یہ بات عالمی بینک کی جانب سے اجناس کی عالمی قیمتوں سے متعلق حالیہ رپورٹ میں کہی گئی …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ 2025ء اور 2026ء میں اجناس کی قیمتوں میں بالترتیب 7 فیصد کمی کا امکان ہے، 2025ء میں سونا 42 فیصد مہنگا ہونے اور 2026ء میں مزید 5 فیصد اضافے کے ساتھ اس کی قیمت 2015–2019ء کی اوسط سے تقریباً دوگنی ہو جائے گی۔ یہ بات عالمی بینک کی جانب سے اجناس کی عالمی قیمتوں سے متعلق حالیہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے سال کمی متوقع ہے اور 2026ء تک یہ قیمتیں گزشتہ چھ سال کی کم ترین سطح پر پہنچ جائیں گی، 2025ء اور 2026ء میں اجناس کی قیمتوں میں بالترتیب 7 فیصد کمی کا امکان ہے جس کی بنیادی وجوہات میں عالمی معاشی نمو کی سست رفتاری، تیل کی زائد پیداوار اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں کمی نے عالمی افراط زر میں کمی میں مدد دی ہے ، چاول اور گندم کی قیمتوں میں کمی نے بعض ترقی پذیر ممالک میں خوراک کو مزید قابل استطاعت بنا دیا ہے تاہم حالیہ کمی کے باوجود اجناس کی قیمتیں اب بھی وباء سے قبل کی سطح سے زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں قیمتیں 2019ء کے مقابلے میں 23 فیصد اور 2026ء میں 14 فیصد زیادہ رہیں گی۔

عالمی بینک گروپ کے چیف اکانومسٹ اور سینئر نائب صدر برائے ڈویلپمنٹ اکنامکس اندرمیت گل نے بتایاکہ اجناس کی منڈیاں عالمی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد دے رہی ہے،توانائی کی قیمتوں میں کمی نے صارفین کی قیمتوں میں اضافے کی شرح کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن یہ ریلیف زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ حکومتوں کو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مالی نظم و ضبط کے قیام، معیشتوں کو کاروبار دوست بنانے اور تجارت و سرمایہ کاری کو تیزکرنے کیلئے اقدامات کرنا چاہئے۔

رپورٹ کے مطابق 2025ء میں عالمی تیل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 2026ء میں یہ 2020ء کی بلند ترین سطح سے 65 فیصد زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 2025ء میں اوسطاً 68 ڈالر فی بیرل سے گھٹ کر 2026ء میں 60 ڈالر فی بیرل ہونے کی توقع ہے جو پانچ سال کی کم ترین سطح ہوگی۔ مجموعی طور پر توانائی کی قیمتوں میں 2025ء میں 12 فیصد اور 2026ء میں مزید 10 فیصد کمی متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق خوراک کی قیمتیں بھی نیچے جا رہی ہیں جن میں 2025ء میں 6.1 فیصد اور 2026ء میں 0.3 فیصد کمی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

سویابین کی قیمتیں 2025ء میں ریکارڈ پیداوار اور تجارتی کشیدگیوں کے باعث کم ہو رہی ہیں لیکن اگلے دو سالوں میں ان کے مستحکم ہونے کی توقع ہے۔ اس کے برعکس کافی کی قیمتوں میں 2026ء میں کمی متوقع ہے۔ مختلف کھادوں کی قیمتوں میں 2025ء میں 21 فیصد اضافہ متوقع ہے جس کی وجہ زیادہ پیداواری لاگت اور تجارتی پابندیاں ہیں، لیکن 2026ء میں ان میں 5 فیصد کمی کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں 2025ء میں ریکارڈ اضافہ ہواہے جن کی بنیادی وجوہات میں غیر یقینی معاشی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی مانگ اور مرکزی بینکوں کی جانب سے مسلسل خریداری ہے۔ 2025ء میں سونا 42 فیصد مہنگا ہونے کی توقع ہے اور 2026ء میں مزید 5 فیصد اضافے کے ساتھ اس کی قیمت 2015–2019ء کی اوسط سے تقریباً دوگنی ہو جائے گی۔ چاندی کی قیمتیں بھی 2025ء میں 34 فیصد بڑھنے اور 2026ء میں مزید 8 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ سطح پر پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تنازعات سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتاہے اور اس کے نتیجہ میں سونے اور چاندی جیسے محفوظ سرمایہ کاری والے اثاثوں کی طلب بڑھ سکتی ہے، اسی طرح مصنوعی ذہانت کی تیزی سے توسیع اور ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے بڑھتی ہوئی بجلی کی مانگ سے توانائی اور بنیادی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتاہے۔