وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کا 28 ویں پائیدار ترقی کانفرنس میں گلوبل سائوتھ کمپیکٹ فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ اور عالمی مالیاتی اصلاحات پر زور

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی،اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال نے مشترکہ علاقائی چیلنجوں جیسا کہ ماحولیاتی کمزوری، ناقص صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک متحد "گلوبل سائوتھ کمپیکٹ فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ" پر زور دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 28ویں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کانفرنس (ایس ڈی سی) کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا انعقاد پالیسی ادارہ برائے …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی،اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال نے مشترکہ علاقائی چیلنجوں جیسا کہ ماحولیاتی کمزوری، ناقص صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک متحد "گلوبل سائوتھ کمپیکٹ فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ” پر زور دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 28ویں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کانفرنس (ایس ڈی سی) کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کانفرنس کا انعقاد پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)، عالمی ماحولیاتی حکمت عملیوں کے انسٹی ٹیوٹ (آئی جی ای ایس) اور منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارت کے زیر اہتمام کیا گیا جس میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) سے منسلک باہمی حل کے فروغ کے لیے پورے جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا کے رہنما، سکالرز اور شراکت داروں نے شرکت کی۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے تقریباً 2 ارب افراد کے گھر کے طور پر جنوبی ایشیا کی منفرد حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ انسانیت کے ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے اہم خطرات کے ساتھ ساتھ خطے کی بے پناہ صلاحیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ قابل ذکر پیش رفت کے باوجود 380 ملین سے زیادہ جنوبی ایشیائی ممالک کے افراد کثیر الجہتی غربت میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں سے تقریباً سبھی بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے حالیہ آفات بشمول پاکستان میں 2022ء کے سیلاب، بھارت اور بنگلہ دیش میں 2024ء کے سیلاب اور نیپال میں 2025ء کے سیلاب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آفات اس بات کے ثبوت ہیں کہ "موسمیاتی افراتفری کوئی خودمختاری نہیں جانتی ہے۔

ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپنے حلقے نارووال میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے سروے کا تذکرہ کیا اور کہا کہ میں نے وسیع نقصان کے درمیان خاندانوں کی لچک کا مشاہدہ کیا جس سے خطرات کو طاقت میں تبدیل کرنے کے میرے عزم کو تقویت ملی۔وفاقی وزیر نے موسمیاتی موافقت، قابل تجدید توانائی کی تجارت، لچکدار زراعت اور علم کے تبادلے میں علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ صرف اس علاقائی نشاۃ ثانیہ کے ذریعے ہی جنوبی ایشیا موسمیاتی خطرات کے مسائل سے نکل کر موسمیاتی قیادت کے ہراول دستے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی ایس ڈی جی رپورٹ 2024 کا ذکر کیا جو صرف 17 فیصد اہداف کو ہی ٹریک پر دکھاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک نے تعلیم اور صحت سے زیادہ اپنے 12 تا 15 فیصد بجٹ قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص کیے ہیں۔ انہوں نے فنانس، ٹیکنالوجی اور تجارت تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے "نیو ڈویلپمنٹ کمپیکٹ” کے لیے پاکستان کے مطالبے کو اجاگر کیا اور خبردار کیا کہ عالمی مالیاتی ڈھانچے کی بنیادی تبدیلی کے بغیر ایس ڈی جیز گلوبل سائوتھ کے لیے سراب بن کر رہیں گے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی بحران ایک معاشی بحران ہے اور یہ اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے نہ کہ اجتماعی بے حسی کا۔پاکستان کی قومی حکمت عملی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاکستان کے فریم ورک کو ایک جامع، علم پر مبنی معیشت کے لیے ایک خاکہ قرار دیا جس میں پانچ ستونوں کے گرد ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے جس میں فائیو ایز بشمول برآمدات کی قیادت میں مسابقت اور پیداور کو بڑھانے کے لیے ای-پاکستان کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے گورننس، تعلیم اور معیشت، ماحولیات کے شعبہ اور ماحولیات میں توانائی کے تحفظ کے لیے پالیسی سازی اور ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی صلاحیت سے استفادہ کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے، کارکردگی، استطاعت اور گرین ٹرانزیشنز اور مساوات اور بااختیاریت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ مساوات اور بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے تعلیم، صحت، آبادی کی منصوبہ بندی، اور سماجی تحفظ کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے منصوبہ بندی کے وزیر کے طور پر اپنے گزشتہ دور کا ایک اور ذاتی تجربہ شیئر کیا کہ ایک سکالرشپ پروگرام نے بلوچستان کے ایک دور دراز گائوں کے ایک طالب علم کو انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کرنے اور قابل تجدید توانائی کی اختراعات کی قیادت کرنے کے قابل بنایا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ تعلیم تجریدی پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ وہ چنگاری ہے جو خوابوں کو بھڑکاتی ہے اور قوموں کی تعمیر کرتی ہے۔وفاقی وزیر نے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اہم اقدامات پر روشنی ڈالی جن میں پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کو جدید بنانا اور شواہد پر مبنی گورننس کے لیے نیشنل ڈیٹا ایکسچینج پلیٹ فارم (این ڈی ای پی) کا آغاز کرنا، آر ایف فور فریم ورک، نیشنل اڈاپٹیشن پلان اور لیونگ انڈس انیشی ایٹو کو نافذ کرنا اور ماحولیاتی نظام کو بحال کرنے اور قابل تجدید توانائی کا فروغ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی معاہدے کے ذریعے پاور سیکٹر کی وصولیوں میں 11.5 فیصد اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب میں 15 فیصد بہتری ہوئی ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے جنوبی ایشیا پر زور دیا کہ وہ تعاون کا ایک اہم ذریعہ بن جائے۔ گرین انفراسٹرکچر، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور نوجوانوں کے تبادلے میں مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے ہمسایہ جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا کے ممالک ذیلی علاقائی فورم سے فائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے پائیدار ترقی کے حوالہ سے کہا کہ اس کی رہنمائی ڈیٹا، اختراع، مساوات اور شراکت داری سے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی اختلافات کے دور میں اتحاد پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ 28 ویں ایس ڈی سی کانفرنس پالیسی سازوں، محققین اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان ثبوت پر مبنی تعاون کو فروغ دینے، پائیداری کے مکالمے کے لیے جنوبی ایشیا کے اہم فورم کے طور پر کام کرتی ہے۔