دوحہ۔5نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ سوڈان کی جنگ قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے قطر میں اقوام متحدہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوڈان کے علاقے الفاشر کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور دو سال سے جاری اس تنازعے میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، جو دنیا کے بدترین انسانی المیوں …
سوڈان کی جنگ قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا انتباہ

مزید خبریں
دوحہ۔5نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ سوڈان کی جنگ قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے قطر میں اقوام متحدہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوڈان کے علاقے الفاشر کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور دو سال سے جاری اس تنازعے میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، جو دنیا کے بدترین انسانی المیوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں ہزاروں شہری اس محاصرے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لوگ غذائی قلت، بیماری اور تشدد کے باعث مر رہے ہیں۔ ہمیں بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابلِ اعتبار رپورٹس کے مطابق ریپڈ سپورٹ فورسز کے شہر میں داخل ہونے کے بعد وسیع پیمانے پر پھانسیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد الفاشر میں قتلِ عام کا خطرہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق فورسز نے ایک ہسپتال میں 450 سے زائد افراد کو قتل کیا اور شہریوں کے خلاف نسلی بنیادوں پر قتل و زیادتیوں کا ارتکاب کیا۔ آر ایس ایف نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ آر ایس ایف نے 18 ماہ تک الفاشر کا محاصرہ کیے رکھا، جس سے دسیوں ہزار افراد کے لئے خوراک اور دیگر ضروریات کی رسد منقطع ہو گئی۔ گزشتہ ہفتے یہ نیم فوجی گروہ بالآخر شہر پر قابض ہو گیا۔
انہوں نے سوڈان میں بین الاقوامی امن فوج سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری اور سوڈان پر اثر رکھنے والے تمام فریقین کو اکٹھا کیا جائے تاکہ لڑائی روکی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لڑائی کو روکنے کے لیے ایک لازمی شرط یہ ہے کہ سوڈان میں مزید ہتھیار نہ پہنچنے دیئےجائیں۔ ہمیں جوابدہی کے ایسے نظام بنانے ہوں گے کیونکہ جو جرائم ہو رہے ہیں وہ نہایت خوفناک ہیں۔ واضح رہے کہ آر ایس ایف اور سوڈانی فوج کے درمیان جنگ اپریل 2023 سے ملک کو تباہ کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 40 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، تاہم امدادی ادارے کہتے ہیں کہ اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔اس لڑائی نے ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ افراد کو بے گھر کر دیا ہے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو بڑھا دیا ہے۔ اس وقت سوڈان کے دو خطے قحط کا سامنا کر رہے ہیں جس کے مزید علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔








