فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل دونوں کا غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کے قیام سے متعلق مجوزہ امریکی منصوبے پر تحفظات کااظہار

رام اللہ۔5نومبر (اے پی پی):فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل دونوں نے غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کے قیام سے متعلق مجوزہ امریکی منصوبے پر اپنے تحفظات کااظہار کیا ہے ۔ یہ منصوبہ عرب گروپ کے اشتراک سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر غور ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ فلسطینی قیادت اس تجویز کا اصولی طور پر خیر مقدم کرتی ہے مگر وہ …

رام اللہ۔5نومبر (اے پی پی):فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل دونوں نے غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کے قیام سے متعلق مجوزہ امریکی منصوبے پر اپنے تحفظات کااظہار کیا ہے ۔ یہ منصوبہ عرب گروپ کے اشتراک سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر غور ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ فلسطینی قیادت اس تجویز کا اصولی طور پر خیر مقدم کرتی ہے مگر وہ چاہتی ہے کہ فورس کا قیام اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے باب ششم یا باب ہفتم کے تحت عمل میں لایا جائے۔

ذرائع کے مطابق فلسطینی فریق کو فورس کے کردار، اس کے مینڈیٹ کی مدت اور فلسطینی اتھارٹی کے ممکنہ کردار سے متعلق خدشات ہیں۔ ان نکات پر عرب ٹیم کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔دوسری جانب اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ مجوزہ قرارداد عمومی طور پر اسرائیل کے مؤقف سے ہم آہنگ ہے تاہم اسرائیلی حکومت کو بھی اس کے بعض نکات پر تحفظات ہیں۔

اسرائیل چاہتا ہے کہ فورس کا قیام اقوامِ متحدہ کے دائرہ کار میں تو ہو لیکن اس کے لیے باب ہفتم کا اطلاق نہ کیا جائے کیونکہ یہ باب سلامتی کونسل کو فوجی کارروائیوں کے اختیارات دیتا ہے جنہیں اسرائیل اپنے لیے خطرناک سمجھتا ہے۔اسرائیلی ذرائع نے عندیہ دیا کہ مجوزہ فورس کو غزہ ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دینے سے متعلق کردار دیا جا سکتا ہے، تاہم یہ شق فلسطینی حلقوں میں سخت مزاحمت کو جنم دے سکتی ہے۔اسرائیلی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینی سکیورٹی فورس یا ترک افواج کی شرکت کو قبول نہیں کرےگی البتہ فلسطینی پولیس کے محدود کردار پر بات چیت ممکن ہے ۔

اسرائیلی اخبار یدیعوٹ اہرونوٹ کے مطابق بعض اسرائیلی حکام سمجھتے ہیں کہ عرب ممالک کے اصرار پر فلسطینی پولیس کی شمولیت کو کسی حد تک برداشت کیا جا سکتا ہے۔امریکی حکام کو بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اس منصوبے پر براہِ راست اپنی تجاویزامریکی حکومت کے سامنے رکھے گا۔ توقع ہے کہ یورپی اور عرب ممالک کی آرا شامل کر کے مسودے میں مزید ترامیم کی جائیں گی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیل ترکیہ کی کسی فوجی شرکت کے خلاف ہے لیکن غزہ کی تعمیرِ نو میں ترکیہ کی سرمایہ کاری یا مالی معاونت پر اعتراض نہیں کرے گا۔ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ اس مجوزہ بین الاقوامی فورس میں کون سے ممالک شامل ہوں گے۔ بعض عرب ممالک نے اپنی شمولیت کو فورس کے مینڈیٹ کی نوعیت سے مشروط کیا ہے۔عرب ممالک کے مؤقف کے مطابق ان کی فورسز کا مقصد امن قائم رکھنا ہونا چاہیے، نہ کہ امن مسلط کرنا ۔