واشنگٹن۔5نومبر (اے پی پی):امریکا کی تاریخ کا طویل ترین سرکاری شٹ ڈاؤن 36ویں روز میں داخل ہو گیا۔ شنہوا کے مطابق امریکی وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن بدھ کو اپنے 36ویں روز میں داخل ہو گیا جس نے 19-2018کے 35 روزہ شٹ ڈاؤن کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا ہے، یہ صورتحال امریکا کی تاریخ کا سب سے طویل سرکاری شٹ ڈاؤن بن گئی ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق …
امریکا کی تاریخ کا طویل ترین سرکاری شٹ ڈاؤن 36ویں روز میں داخل

مزید خبریں
واشنگٹن۔5نومبر (اے پی پی):امریکا کی تاریخ کا طویل ترین سرکاری شٹ ڈاؤن 36ویں روز میں داخل ہو گیا۔ شنہوا کے مطابق امریکی وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن بدھ کو اپنے 36ویں روز میں داخل ہو گیا جس نے 19-2018کے 35 روزہ شٹ ڈاؤن کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا ہے، یہ صورتحال امریکا کی تاریخ کا سب سے طویل سرکاری شٹ ڈاؤن بن گئی ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق سینیٹ کی جانب سے عارضی فنڈنگ بل کی 14ویں بار مخالفت کے بعد یہ شٹ ڈاؤن مزید جاری رہنے کا امکان ہے،اس شٹ ڈاؤن نے فضائی نقل و حمل، فوڈ ریلیف، پرائمری تعلیم، میڈیکل انشورنس سمیت امریکی عوام کے روزمرہ کے متعدد شعبوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ شٹ ڈاؤن امریکا میں سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو واضح کرتا ہے جس کی بھاری قیمت امریکی عوام کو اپنے مفادات کے شدید نقصانات کے ساتھ ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ڈیموکریٹک اور ریپبلکن جماعتوں کے درمیان عارضی فنڈنگ بل پر اختلاف کی بنیادی وجہ میڈیکل انشورنس کے اخراجات ہیں۔
امریکا کے افیورڈیبل کیئر ایکٹ کے تحت میڈیکل انشورنس کی 2026 کے لیے رجسٹریشن یکم نومبر سے شروع ہوئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے متعلقہ سرکاری سبسڈی پر متفق نہ ہونے کی وجہ سے انشورنس کمپنیوں کے سالانہ پریمیم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سرکاری سبسڈی نہ ملنے کی صورت میں ہر انشورڈ شخص کے سالانہ میڈیکل اخراجات میں 1,000 ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔








