ملائیشیا کو گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیےجامع کاروباری ماڈل کو جلد حتمی شکل د ے دیں گے،ہارون اختر خان

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوارہارون اختر خان نے کہا ہے کہ ملائیشیا کو گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیےجامع کاروباری ماڈل کو جلد حتمی شکل دے کر وزیرِ اعظم کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو یہاں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں کمیٹی کے تحت قائم چار …

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوارہارون اختر خان نے کہا ہے کہ ملائیشیا کو گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیےجامع کاروباری ماڈل کو جلد حتمی شکل دے کر وزیرِ اعظم کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو یہاں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔

اجلاس میں کمیٹی کے تحت قائم چار ورکنگ گروپوں نے اپنی رپورٹس پیش کیں۔ اجلاس میں وزارتِ تجارت، صنعت و پیداوار اور خوراک کے سینئر حکام کے علاوہ سرکاری و نجی شعبے کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔اس موقع پر ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان میں مضبوط لائیو سٹاک (مویشی پروری) کی بنیاد موجود ہے اور دنیا بھر میں حلال گوشت کے اعتبار سے اس کی شہرت مسلم ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ معیار، تسلسل اور مسابقت کو بہتر بناتے ہوئے گوشت کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں پاکستان کو اب بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں جن میں چھوٹے جانوروں کی کمی، فیڈ لاٹ فنشنگ (موثر خوراکی پرورش) کا غیر ترقی یافتہ نظام اور کمزور کولڈ چین انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ جانوروں کی پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے، جدید ذبح اور پروسیسنگ ٹیکنالوجی اپنائی جائے، مضبوط حلال سرٹیفکیشن نظام یقینی بنایا جائے اور لاجسٹکس کے ڈھانچے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مضبوط کیا جائے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ مویشی پالنا دیہی آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے اور ملک بھر میں ایک کروڑ 20لاکھ سے زائد گھرانے اس شعبے سے وابستہ ہیں ،دیہی خاندان اپنی آمدن کا تقری35 سے 40 فیصد حصہ مویشیوں سے حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برآمدکنندگان عموماً منجمد گوشت کی تجارت کرتے ہیں جس سے لاگت کم ہوتی ہے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں وسعت ملتی ہے تاہم پاکستان میں جانور عموماً سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں اور اُن کی پیداواریت بڑے برآمد کنندگان کے مقابلے میں کم ہے۔

ہارون اختر خان نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں فی الحال فروزن اور ڈیبونڈ بیف (ہڈی سے علیحدہ گوشت) کی پروسیسنگ کی صلاحیت محدود ہے۔اس مقصد کے لیے پروسیسنگ، کولڈ چین اور ایکسپورٹ ریڈی سسٹمز کو اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بھینس کے گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیے ترغیبی اقدامات کرنےکی اہمیت پر بھی زور دیا۔