قابض طاقتوں کی جانب سے حقائق کو مسخ کر کے جبر کو جائز قرار دینے کے لئے غلط معلومات کے استعمال کے رجحان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان

اقوام متحدہ۔5نومبر (اے پی پی):پاکستان نے قابض طاقتوں کی جانب سے حقائق کو مسخ کر کے جبر کو جائز قرار دینے اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کو غیر قانونی ثابت کرنے کے لئے غلط معلومات کے سٹریٹجک استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس رجحان کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے پریس قونصلر امانت …

اقوام متحدہ۔5نومبر (اے پی پی):پاکستان نے قابض طاقتوں کی جانب سے حقائق کو مسخ کر کے جبر کو جائز قرار دینے اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کو غیر قانونی ثابت کرنے کے لئے غلط معلومات کے سٹریٹجک استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس رجحان کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے پریس قونصلر امانت علی نے خصوصی سیاسی و غیر نوآبادیاتی امور سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی میں انفارمیشن کے حوالے سے سوالات کے موضوع پر مباحثے کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش، ذرائع ابلاغ پر پابندی کے قوانین اور ڈیجیٹل سرویلنس کے ذریعے قابض طاقتیں اختلافِ رائے کو دبانے اور مصنوعی استحکام کا جھوٹا بیانیہ تیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی کے حوالہ سے اس منظم جبر کے ذریعے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بین الاقوامی قانون اور رکن ممالک کی اخلاقی ذمہ داریوں کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقائق کو مسخ کرنا،ممالک کو بدنام کرنا اور بین الاقوامی اداروں پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنا اب ایک منظم طرزِ عمل بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ درست، غیر جانبدار اور بروقت معلومات کی فراہمی اقوامِ متحدہ کے اصولوں، مقاصد اور پروگراموں کے فروغ کے لئے نہایت ضروری ہے۔جہاں معلومات کو انسانیت کی خدمت اور باہمی فہم و برداشت کے فروغ کا ذریعہ ہونا چاہیے، وہاں اس کا غلط استعمال عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے، معاشرتی تقسیم کو بڑھاتا ہے اور کثیر جہتی تعاون کو کمزور کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس یقین کو تقویت دینے کی امید کرتا ہے کہ معلومات محض ایک شے نہیں ہے بلکہ ایک عوامی بھلائی ہے اور اس سے بھی اہم طور پر ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مصنوعی ذہانت اور تخلیقی ٹیکنالوجیز کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جنریٹو ٹیکنالوجیز کی آمد نے ڈیجیٹل منظر نامے میں مثبت امید اور خطرات دونوں کو شامل کر دیا ہے یہ ٹیکنالوجی اگر اخلاقی اصولوں کے مطابق استعمال کی جائے تو بہتر طرزِ حکمرانی میں مدد دے سکتی ہے ۔ لیکن اگر اسے بطور ہتھیار استعمال کیا جائے تو یہ حقیقت کو مسخ کرنے اور جھوٹ کو بڑھاوا دینے کی طاقت رکھتی ہے۔

اگر ان پر قابو نہ پایا گیا تو یہ استثنا کے ساتھ غلط معلومات پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔پاکستانی مندوب نے ڈیجیٹل عدم مساوات کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک معلوماتی ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی یقینی نہیں بنائی جاتی، ڈیجیٹل ترقی کا وعدہ ادھورا رہے گا اور دنیا کی ایک بڑی آبادی جدت اور مواقع سے محروم رہے گی۔ اس خلا کو پر کرنا جامع ڈیجیٹل معیشت اور 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کثیر لسانی اور ثقافتی تنوع کو برقرار رکھنے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کا پیغام ان زبانوں میں لوگوں تک پہنچنا چاہیے جن کو وہ سمجھتے اور بھروسہ کرتے ہیں۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر خاص طور پر اسلاموفوبیا اور غیر ملکیوں سے نفرت (زینو فوبیا) میں اضافہ تشویشناک ہے جس کے نتیجے میں اکثر حقیقی دنیا کو نقصان ہوتا ہے ۔ پاکستان اس رجحان کے خاتمے کے لئے عالمی سطح پر ذمہ دار پلیٹ فارم گورننس اور اقوام متحدہ کی طرف سے تکثیریت کو فروغ دینے کے لئے مسلسل حمایت سمیت موثر اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی، صحت اور ماحولیات جیسے اہم موضوعات پر مٹھی بھر عالمی پلیٹ فارم پر گردش کرنے والی غلط معلومات بھی باعثِ تشویش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان درست، جامع اور اخلاقی معلومات کے فروغ کے لئے پُرعزم ہے۔ ہم اقوامِ متحدہ کے محکمۂ اطلاعات و ابلاغِ عامہ ( ڈی جی سی) کے کام کی حمایت کرتے ہیں تاکہ عالمی معلوماتی ماحولیاتی نظام مزید روادار، منصفانہ اور جوابدہ ہو۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ صرف باخبر معاشروں کے ذریعے ہی ہم غلط معلومات اور گمراہی کے رجحان کا مؤثر طور پر مقابلہ کر سکتے ہیں۔