ماحولیاتی بحران ہمارا پیدا کردہ نہیں ہے ، پاکستان کو اپنی اقتصادی، مالیاتی اور برآمدی حکمتِ عملیوں میں پائیدار ماحولیاتی عناصر کواہم جزو کے طور پر شامل کرنا ہوگا ، مقررین کا 28ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):مقررین نے کہا ہے کہ ماحولیاتی بحران ہمارا پیدا کردہ نہیں ہے ، پاکستان کو اپنی اقتصادی، مالیاتی اور برآمدی حکمتِ عملیوں میں پائیدار ماحولیاتی عناصر کواہم جزو کے طور پر شامل کرنا ہوگا، ماحولیاتی مسائل سب کے لئے ایک جیسے ہیں مگر ہماری مزاحمت کی صلاحیت یکساں نہیں،پاکستان کی سلامتی اور معاشی مستقبل کا انحصار عسکری قوت کے مظاہرے کے بجائے مضبوط معاشی خود انحصاری …

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):مقررین نے کہا ہے کہ ماحولیاتی بحران ہمارا پیدا کردہ نہیں ہے ، پاکستان کو اپنی اقتصادی، مالیاتی اور برآمدی حکمتِ عملیوں میں پائیدار ماحولیاتی عناصر کواہم جزو کے طور پر شامل کرنا ہوگا، ماحولیاتی مسائل سب کے لئے ایک جیسے ہیں مگر ہماری مزاحمت کی صلاحیت یکساں نہیں،پاکستان کی سلامتی اور معاشی مستقبل کا انحصار عسکری قوت کے مظاہرے کے بجائے مضبوط معاشی خود انحصاری پر ہے، پاکستان کو کسی ایک عالمی طاقت کے ساتھ جڑنے کی بجائے غیر جانبدار اور ہمہ جہت خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی،جنوبی ایشیا کے خطے کی سیاسی کشیدگی اور معاشی بے یقینی کے تناظر میں سارک جیسی نئی، فعال اور لچکدار ذیلی علاقائی تنظیم کے قیام کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے یہاں 28ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے دوسرے روز مختلف اجلاسوں میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل نے موسمیاتی تبدیلی کو”قومی معاشی ایمرجنسی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی اقتصادی، مالیاتی اور برآمدی حکمتِ عملیوں میں ماحولیات کو بنیادی حیثیت دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاربن ٹیکس سمیت متعدد اصلاحات کی کوشش کر رہی ہے۔کلائمیٹ ولنریبل فورم (سی وی ایف ) کے حمزہ ہارون نے کہا کہ 70 سے زیادہ کمزور ممالک یکساں خطرات سے دوچار ہیں مگر ان کی مالی و تکنیکی صلاحیت ناکافی ہے۔

انہوں نے منصفانہ موسمیاتی مالیات اور رعایتی قرضوں تک بہتر رسائی کا مطالبہ کیا۔انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کے فرحان رانا نے امارات سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں قابلِ تجدید توانائی نئی پیش رفتیں کر رہی ہے مگر جامع پالیسیوں اور گہرے عالمی تعاون کے بغیر یہ رفتار برقرار نہیں رہ سکے گی۔اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (UNESCAP) کے ڈاکٹر پیئر ہورنا نے کہا کہ خطے کو موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کےلئے ہر سال 190 ارب ڈالر سے زیادہ درکار ہوں گے۔سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ ، بنگلادیش کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فہمیدہ خاتون نے ترقی یافتہ ملکوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں کیونکہ یہ چیلنج تنہا حل نہیں ہو سکتا۔

کانفرنس میں عالمی افراتفری میں پاکستان کا نیاجیو اقتصادی محور کے موضوع پر مرتب کردہ رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے سابق مشیرِ قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور معاشی مستقبل کا انحصار عسکریت کے بجائے مضبوط اقتصادی خود انحصاری پر ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کے پاس کوآپریٹو جیو اکنامکس اپنانے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی ایک عالمی طاقت کے ساتھ جڑنے کی بجائے غیر جانبدار اور ہمہ جہت خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی اورعلاقائی رابطوں کو بہتر بنانا ہوگا ۔

اس موقع پر ڈاکٹر ہما بقائی نے رپورٹ کو حقیقت پسندانہ اقتصادی سفارت کاری کا جامع نقشہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز پاکستان کے لئے ایک متوازن، جذباتی اور عملی وژن پیش کرتی ہے۔سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ جیو اکنامکس جیو پولیٹکس کا حصہ ہے اور حقیقی اقتصادی پیش رفت سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض (ر) نے قومی سلامتی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ NSP کا مقصد ملک کو درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے جامع راستے کی نشاندہی ہے۔

تاہم مسئلہ پالیسی میں نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ میں ہے ۔آخر میں ایس ڈی پی آئی کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سفیر شفاعت کاکاخیل نے شرکا اور مقررین کا شکریہ ادا کیا۔ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات اور قابلِ تجدید توانائی کے موضوع پر پالیسی ڈائیلاگ میں ماہرین نے خبردار کیا کہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کو بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات، توانائی بحران اور علاقائی تنہائی سے نمٹنے کےلئے فوری موسمیاتی مالیات، صاف توانائی کی تیز رفتار توسیع، مضبوط طرزِ حکمرانی اور سارک طرز کی ایک نئی مو ¿ثر ذیلی علاقائی تنظیم کے قیام کی فوری ضرورت ہے۔

پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے ڈائریکٹر ماحولیات فیصل شریف نے کہا کہ پاکستان کو 2035 تک اپنے اخراجاتی اہداف اور توانائی کے صاف ذرائع میں تیزی سے اضافے کےلئے جدید مالیاتی ماڈلز، تکنیکی تعاون اور مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت درکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان 2030 تک قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 62 فیصد تک بڑھانے اور توانائی کی شدت میں نمایاں کمی لانے کا ہدف رکھتا ہے جس کے لئے گرین بانڈز، کاربن مارکیٹس، بلینڈڈ فنانس اور جَسٹ انرجی ٹرانزیشن پارٹنرشپس (JETPs) جیسے ذرائع ناگزیر ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (ESCAP) کی س ±باتھرائی سیواکوماران نے کہا کہ درآمدی ایندھن پر انحصار نے پاکستان کے توانائی نظام کو غیر مستحکم کیا ہے اور گردشی قرضہ 2.6 کھرب روپے سے بڑھ چکا ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر خالد ولید نے زور دیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ایسی اصلاحات سے اجتناب ضروری ہے جو نجی سرمایہ کاری اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں رکاوٹ ہیں۔بنگلہ دیش کے سفیر فیاض مرشد قاضی نے خطے کے توانائی مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقیاتی ہدف نمبر 7 خطے کی معاشی و سماجی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت اوربنگلہ دیش سرحد پار بجلی کی تجارت اور گرین فنانسنگ میں مرکزی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بدلتی ہوئی دنیا میں جنوبی ایشیا کی اہمیت کے موضوع پر گول میز اجلاس میں مقررین نے خطے کی سیاسی کشیدگی اور معاشی بے یقینی کے تناظر میں سارک جیسی ایک نئی، فعال اور لچکدار ذیلی علاقائی تنظیم کے قیام کی تجویز پیش کی جو توانائی، تجارت، موسمیات اور تحقیق کے شعبوں میں عملی تعاون کو آگے بڑھا سکے۔

ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو روایتی حکمت عملی کے بجائے عالمی معاشی،جغرافیائی حقیقت کے مطابق تبدیلی لانا ہوگی ۔ اقتصادی ماہر ہارون شریف نے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش سمیت خطے کے دیگر ممالک کو اپنے وسائل، مضبوط اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری پر انحصار کرنا ہوگا۔یلسن سینٹر کے سابق ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید سفارتی تنہائی کا شکار ہے جبکہ افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی نے علاقائی تعاون کے امکانات محدود کر دیئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک پاکستان داخلی استحکام حاصل نہیں کرتا جنوبی ایشیا میں معاشی اور موسمیاتی تعاون کی راہیں پوری طرح نہیں کھل سکتیں۔بریگیڈیئر (ر) فیروز حسن خان نے کہا کہ پاکستان مواقع سے فائدہ تو اٹھا لیتا ہے مگر انہیں پائیدار نہیں بنا پاتا لہٰذا خطے کو نئی سوچ، مضبوط بنیادوں اور دیرپا ادارہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ماہرین نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب، موسمیاتی خطرات اور مہنگی درآمدی توانائی کے یکساں چیلنجز سے دوچار ہیں، اس لئے علاقائی تعاون، صاف توانائی، جدید مالیاتی ذرائع اور مضبوط گورننس ہی خطے کو پائیدار مستقبل دے سکتے ہیں۔