اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے سینٹر برائے سٹریٹجک پرسپیکٹیوز (سی ایس پی ) نے امریکہ کی ناظم الامور نٹالی اے بیکر کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت پاک۔امریکہ تعلقات میں حالیہ پیشرفت کے موضوع پر ایک گول میز مذاکرہ منعقد کیا۔ اس موقع پر سابق سفراء، سینئر ماہرینِ سفارتکاری، تھنک ٹینکس کے سربراہان، ماہرینِ تعلیم، تجزیہ کار اور علاقائی امور کے ماہرین نے …
پاک۔امریکہ تعلقات میں حالیہ پیشرفت کے موضوع پر گول میز مذاکرہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے سینٹر برائے سٹریٹجک پرسپیکٹیوز (سی ایس پی ) نے امریکہ کی ناظم الامور نٹالی اے بیکر کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت پاک۔امریکہ تعلقات میں حالیہ پیشرفت کے موضوع پر ایک گول میز مذاکرہ منعقد کیا۔ اس موقع پر سابق سفراء، سینئر ماہرینِ سفارتکاری، تھنک ٹینکس کے سربراہان، ماہرینِ تعلیم، تجزیہ کار اور علاقائی امور کے ماہرین نے شرکت کی۔اپنے خیر مقدمی کلمات میں ادارہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر سہیل محمود نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک طویل اور مضبوط تعلق موجود ہے جو وقتاً فوقتاً تعاون اور اختلاف کے ادوار سے گزرتا رہا ہے مگر ہمیشہ دونوں ممالک کے لئے اہم رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس تعلق کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا تاہم یہ شراکت ہمیشہ لچکدار رہی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے فروغ میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔سفیر سہیل محمود نے کہا کہ 2025 میں پاک۔امریکہ تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جو کئی عوامل سے تشکیل پا رہے ہیں جن میں امریکہ میں نئی انتظامیہ، تیزی سے بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ اور جنوبی ایشیا، مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک عملی اور حقیقت پسندانہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جن میں انسدادِ دہشت گردی میں تعاون، افغانستان میں امن اور جنوبی ایشیا میں بحرانوں سے بچاؤ کے لئے ہم آہنگی نمایاں ہے۔ ۔مذاکرہ کے دوران شرکاء نے امن، خوشحالی اور علاقائی استحکام کے مشترکہ اہداف پر مبنی گہرے اور مستقبل کی اہمیت پر زور دیا۔سوال و جواب کے سیشن میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، افغانستان کی صورتحال، جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی، مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور ایشیا پیسفک کی پیشرفت جیسے موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی۔








