ابوظہبی۔6نومبر (اے پی پی):اٹلی کے تجارتی کمشنر برائے متحدہ عرب امارات اور دبئی میں اطالوی ٹریڈ ایجنسی کے ڈائریکٹر والیریو سولدانی نے کہا ہے کہ یو اے ای اور اٹلی کے درمیان اقتصادی تعلقات بے مثال ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جنہیں مستحکم تجارتی توسیع اور ٹیکنالوجی، توانائی اور پائیداری کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون نے مزید تقویت دی ہے۔ایڈپیک کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی …
اٹلی کی یو اے ای کو تیل و گیس ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 45 فیصد کا نمایاں اضافہ

مزید خبریں
ابوظہبی۔6نومبر (اے پی پی):اٹلی کے تجارتی کمشنر برائے متحدہ عرب امارات اور دبئی میں اطالوی ٹریڈ ایجنسی کے ڈائریکٹر والیریو سولدانی نے کہا ہے کہ یو اے ای اور اٹلی کے درمیان اقتصادی تعلقات بے مثال ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جنہیں مستحکم تجارتی توسیع اور ٹیکنالوجی، توانائی اور پائیداری کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون نے مزید تقویت دی ہے۔ایڈپیک کے موقع پر امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے والیریو سولدانی نے بتایا کہ 2025 میں اٹلی کی یو اے ای کو برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا جبکہ تیل و گیس ٹیکنالوجی کی برآمدات 45 فیصد سے زائد بڑھیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کی مضبوطی اور تنوع کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال ایڈپیک میں اٹلی کی بھرپور موجودگی دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ یو اے ای افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کی منڈیوں میں داخلے کے خواہاں اطالوی کاروباری اداروں کے لیے ایک اسٹریٹجک گیٹ وے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سیپا) یو اے ای کو عالمی تجارتی مرکز اور کاروباری پل کے طور پر مزید مستحکم کر رہے ہیں۔
اٹلی کے تجارتی کمشنر نے کہا کہ یہ مثبت پیش رفت دونوں ممالک کے جدت، اختراع اور ماحول دوست توانائی کو فروغ دینے کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اطالوی کمپنیاں قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن اور کم کاربن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اماراتی اداروں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ یو اے ای کے 2050 تک ماحولیاتی غیرجانبداری کے ہدف میں تعاون کیا جا سکے۔
والیریو سولدانی نے کہا کہ اٹلی، جو یورپی یونین کی دوسری بڑی صنعتی معیشت ہے، یو اے ای کو ایک طویل المدتی اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ٹیکنالوجی اور پائیداری کے شعبوں میں تعاون بڑھا کر مشترکہ خوشحالی کے لیے پرعزم ہیں۔








